Bharat Express DD Free Dish

opposition criticism

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ملک شدید معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن حکومت اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سوشل میڈیا ٹرینڈز اور ویڈیوز میں مصروف ہے۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دراصل ایک وسیع ’’موڈانی‘‘ کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے شدید ماحولیاتی اور انسانی نقصان ہوگا۔

واضح رہے کہ 17 اپریل کو لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا، جس پر تقریباً 21 گھنٹے طویل بحث کے بعد ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ میں 528 ارکان نے حصہ لیا، جن میں 298 نے بل کے حق میں جبکہ 230 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم بل کو پاس کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، جس کے باعث یہ بل 54 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے دورِ حکومت میں اتر پردیش بدامنی اور افراتفری کی علامت بن گیا تھا، جہاں تاجر اور سرمایہ کار خوف کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور تھے۔ بدعنوانی اور خاندانی سیاست اس دور کی پہچان بن گئی تھی۔

کانگریس کی ’کسان مہاچوپال‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ پروگرام بھارت اور امریکہ کے درمیان ہوئے عبوری تجارتی معاہدے کے خلاف منعقد کیا گیا تھا، جس میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے بھی موجود تھے۔

رندیپ سرجے والا کا ردعمل اُس وقت سامنے آیا جب بھارت اور امریکہ نے باہمی اور بافائدہ تجارت کے لیے ایک عبوری معاہدے کے فریم ورک کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے (BTA) کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جس کا آغاز 13 فروری 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔

پیوش گوئل کے اس سخت بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے کو لے کر سیاسی محاذ پر تکرار مزید تیز ہو گئی ہے۔ جہاں حکومت اسے بھارت کی بڑی سفارتی اور تجارتی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہیں کانگریس اس پر سوال اٹھا رہی ہے۔ تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ موجودہ دور کے معاہدے بھارت کے قومی مفادات کے مکمل تحفظ کے ساتھ کیے جا رہے ہیں اور یہی ملک کی مضبوط اور خودمختار معیشت کی بنیاد ہیں۔

ڈھاکہ ٹریبیون نے خبر دی ہے کہ جماعت اسلامی نے انتخابی کمیشن، انتخابی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مکمل غیرجانبداری کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں۔ پارٹی نے حکومت سے بھی کہا کہ وہ قانون و نظم قائم رکھے تاکہ واقعی آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات ممکن ہو سکیں۔

بنگال کی تکثیری شناخت پر زور دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا: ’’کوئی مندر میں عبادت کرتا ہے، کوئی مسجد میں، کوئی گردوارے میں یہی بنگال ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابات کے قریب آتے ہی بدامنی پھیلانے اور جھوٹے سوالات کھڑے کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔