Bharat Express DD Free Dish

political attack

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 23 اپریل کو جبکہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی، اور نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی مسلسل چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے کے لیے پوری طاقت لگا رہی ہے۔

نریندر مودی نے کہا کہ عوام نے ٹی ایم سی حکومت کو 15 سال دیے، جو ایک طویل مدت ہے، مگر اس دوران عوام کو کوئی خاص فائدہ نہیں ملا۔ قبائلی علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہاں ’’نہ پڑھائی، نہ کمائی، نہ دوائی اور نہ ہی سینچائی‘‘ کی صورتحال ہے اور ہر شعبہ بدحال ہے۔ 

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہے۔

ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ حکومت 543 نشستوں کے بجائے 850 نشستیں کرنے کے منصوبے کے ذریعے انتخابی توازن کو بدلنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی کو خدشہ تھا کہ موجودہ حلقوں میں کامیابی مشکل ہے، اسی لیے وہ حلقہ بندی کے ذریعے نئے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند رکھیں اور خاص طور پر سندیش کھالی جیسے علاقوں میں خواتین کے استحصال کو نظرانداز کیا گیا۔ آرجی کر کیس کی متاثرہ خاتون کی والدہ رتنا دیبناتھ کو بی جے پی نے پانی ہاٹی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے جس سے انتخابی سیاست میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔

وزیراعظم مودی کی یہ تقریر واضح طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے قانون و انتظام، دراندازی اور عوامی سلامتی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بنایا۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عوام ان الزامات اور وعدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ریاست کی سیاسی سمت کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال کی معیشت کے ایک اہم شعبے یعنی ماہی گیری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مچھلی کی بہت زیادہ طلب ہونے کے باوجود ریاست خود کفیل نہیں بن سکی، جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بھی بنگال کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہاں قدرتی وسائل اور مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔

ہوجائی اسمبلی نشست پر بی جے پی کے شیلادتیہ دیو کا مقابلہ کانگریس کی جِھلی چودھری سے ہے۔ آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ 9 اپریل کو ہوگی جبکہ نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ وزیراعظم نے عوام کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ اس بار بھی بی جے پی-این ڈی اے کو ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل ہوگی۔