پورولیا (مغربی بنگال): وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے انتخابی ماحول کے درمیان پورولیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “ٹی ایم سی سنڈیکیٹ” نے آدیواسیوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے اور قبائلی علاقوں کی ترقی مکمل طور پر رک گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ریاست میں ٹی ایم سی کی حکومت کے دوران ’’مہا جنگل راج‘‘ قائم ہے، جہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق سڑک، بجلی، پانی، اسکول اور اسپتال جیسے بنیادی شعبے بدحالی کا شکار ہیں، خاص طور پر قبائلی اضلاع میں صورتحال انتہائی خراب ہے۔
کسان اور زرعی نظام سنڈیکیٹ کے قبضے میں
نریندر مودی نے الزام لگایا کہ زرعی منڈیاں اور کولڈ اسٹوریج مراکز ٹی ایم سی کے سنڈیکیٹ کے کنٹرول میں ہیں، جس سے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کے کاشتکاروں اور آلو پیدا کرنے والوں کی حالت خراب ہے جبکہ آبپاشی کے کئی منصوبے رکے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے ٹی ایم سی حکومت پر اساتذہ کی بھرتی میں گھوٹالے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہزاروں نوجوانوں کو دھوکا دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 15 سالہ دورِ حکومت میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور صنعتیں ریاست سے دور ہو رہی ہیں۔
بی جے پی کی جیت کا دعویٰ
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی بڑی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام ’’خوف ختم، اعتماد شروع‘‘ کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ وزیراعظم نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی نے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی مخالفت کی کیونکہ وہ زیادہ خواتین نمائندوں سے خوفزدہ ہے جو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گی۔ بی جے پی کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی اقتدار میں آئی تو دھان کی کم از کم امدادی قیمت 3100 روپے مقرر کی جائے گی اور پی ایم کسان اسکیم کے تحت 6000 روپے کے بجائے 9000 روپے دیے جائیں گے۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ ممتا بنرجی چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
