Rahul Gandhi lambasts Himanta: راہل گاندھی کا آسام میں بی جے پی پر سخت حملہ، کہا-’’آپ کے وزیراعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں وزیراعظم مودی‘‘
آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ آسام میں اس بار حکمراں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
Congress compromised Assamese identity: ’’کانگریس بدعنوانی کی جڑ، آسام کی شناخت سے سمجھوتہ کیا گیا‘‘ وزیراعظم نریندر مودی کی کانگریس پر سخت تنقید
آسام اسمبلی کی تمام 126 نشستوں کے لیے ووٹنگ 9 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوگی جبکہ نتائج 4 مئی کو آئیں گے۔ یہ انتخابات حکمراں بی جے پی-این ڈی اے اتحاد اور کانگریس کے درمیان اہم مقابلہ ہوں گے، جہاں این ڈی اے تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ کانگریس واپسی کے لیے میدان میں ہے۔
West Asia conflict: ’’بھارت نے حالات کو قابو میں رکھا ہے‘‘ وزیراعظم نریندر مودی نے عوام کو دلایا یقین، کانگریس پر تقسیم کی سیاست کا الزام
وزیر اعظم نے کانگریس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، اس وقت اپوزیشن جماعت تقسیم پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس عوام میں خوف اور افواہیں پھیلا رہی ہے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے حالات کے بگڑنے کا انتظار کر رہی ہے۔
Corporate-funded Govt: راہل گاندھی کا کیرالہ میں لیفٹ فرنٹ پر کارپوریٹ حکومت کا الزام، کہا ’’وزیراعلیٰ وجین کو کنٹرول کرتے ہیں وزیراعظم‘‘
کانگریس رہنما نے ایل ڈی ایف حکومت کو ’’کارپوریٹ فنڈڈ حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بائیں بازو کی نظریاتی شناخت کھو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے، اسی طرح نریندر مودی کیرالہ کے وزیراعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ بدعنوانی بھی ایک بڑا عنصر ہے۔
PM Modi accuses Congress-SP: ’’جیور پروجیکٹ 2004 سے 2014 تک فائلوں میں دبا رہا‘‘ وزیراعظم مودی نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو بنایا نشانہ
وزیراعظم نے بتایا کہ اڑان اسکیم کے تحت گزشتہ برسوں میں 1.60 کروڑ سے زائد شہری سستے داموں ہوائی سفر کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کی توسیع کے لیے تقریباً 29,000 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت چھوٹے شہروں میں 100 نئے ایئرپورٹس اور 200 ہیلی پیڈز بنانے کا منصوبہ ہے۔
Amit Shah hit out at Rahul Gandhi: لوک سبھا میں امت شاہ کا راہل گاندھی پر سخت حملہ، کہا-’’بولنے کا موقع ملتا ہے تو جرمنی اور انگلینڈ میں ہوتے ہیں‘‘
امت شاہ نے اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا اقدام پارلیمانی ادارے کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں کے بعد پہلی بار لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف ایسی قرارداد پیش کی گئی ہے، جو پارلیمانی سیاست کے لیے افسوسناک ہے۔
West Asia conflict: ’’بھارت اپنے شہریوں کو مشکل میں تنہا نہیں چھوڑتا‘‘: وزیراعظم نے خلیجی ممالک میں پھنسے بھارتیوں کو دلایا مدد کا یقین
وزیراعظم نریندر مودی نے خلیجی ممالک کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود بھارتی شہریوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سفارت خانے اور مشن چوبیس گھنٹے اپنے شہریوں کی مدد میں مصروف ہیں اور انہیں خوراک، رہائش اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
Delhi witnessing Development: وزیراعظم نریندر مودی نے عام آدمی پارٹی کو بنایا ہدف تنقید، کہا-’’دہلی میں ترقی کی رفتار بہت تیز‘‘
وزیراعظم نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد دہلی میں ترقیاتی کام تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور حکومت شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے مشن موڈ میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی صرف بھارت کا دارالحکومت نہیں بلکہ ملک کی شناخت اور توانائی کی علامت بھی ہے۔ دہلی کی ترقی دراصل پورے ملک کی ترقی اور عالمی سطح پر بھارت کی بہتر تصویر سے جڑی ہوئی ہے۔
Epstein row controversy: پون کھیڑا کا ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ، کہا-’’ایپسٹین تنازع کے بعد انہیں عہدے پر رہنے کا حق نہیں‘‘
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی جانب سے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
Amit Shah in Bengal: ووٹ بینک سیاست کے لیے ہورہی ہے وندے ماترم کی مخالفت، بنگال کے عوام معاف نہیں کریں گے: امت شاہ
وندے ماترم کے مسئلے پر امت شاہ کا یہ سخت بیان نہ صرف ترنمول کانگریس کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن گیا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں مغربی بنگال کی سیاست میں نئے تصادم اور انتخابی گہما گہمی کا اشارہ بھی ہے۔ 2026 کے انتخابات کے قریب آتے ہی ریاست میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔





