Bharat Express DD Free Dish

political attack

امت شاہ نے کہا کہ ممتا بنرجی چاہے جتنا این آر سی کی مخالفت کر لیں لیکن دراندازوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جائیں گے۔ دراندازی، سرحدی سلامتی اور بدعنوانی پر ممتا حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا، بی جے پی حکومت بنانے کی اپیل۔

کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آسام اور پورے شمال مشرق کو ترقی سے دور رکھنا ایک ایسا گناہ تھا جس نے ملک کی سلامتی کو کمزور کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اس خطے میں بنیادی ڈھانچے، رابطہ کاری اور اقتصادی مواقع کو فروغ دے کر حالات بدلنے کی کوشش کی ہے۔

وزیراعظم نے ریاست میں بی جے پی کی ڈبل انجن سرکار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بنگال کی کھوئی ہوئی عظمت بحال ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ریاست میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبے رکے ہوئے ہیں۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے دربھنگہ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل) پر جیوکا دیدیوں کے لیے مختص فنڈ پر اعتراض کرنے کے لیے الیکشن کمیشن سے شکایت کرنے پر سخت تنقید کی۔

وزیرداخلہ امت نے بہار اسمبلی انتخابات میں اپنے انتخابی جلسے میں کہا کہ مودی حکومت نے 11 برسوں میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ آپریشن سندور، سرجیکل اسٹرائک اور ایئر اسٹرائک کے ذریعے بھارت کو محفوظ بنایا گیا۔ 

کشن گنج میں اویسی کی انتخابی ریلی، آر جے ڈی امیدوار پر سخت تنقید۔ اویسی نے تیجسوی یادو پر مسلمانوں کے مسائل پر خاموشی اختیار کرنے والے امیدوار کو ٹکٹ دینے کا الزام لگایا۔

امت شاہ نے وعدہ کیا کہ اگر عوام این ڈی اے کو اقتدار میں لائیں تو ایک کروڑ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں اور روزگار دیے جائیں گے، 100 ایم ایس ایم ای پارک اور 50 ہزار چھوٹے صنعتی مراکز قائم کیے جائیں گے، زراعت اور انفراسٹرکچر کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

کانگریس نے بہار اور کرناٹک میں مبینہ انتخابی بدعنوانیوں کی تحقیقات کو اجاگر کرنے کے لیے مہم کو مزید تقویت دی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی الیکشن کمیشن کو بنایا نشانہ

جی ایس ٹی اصلاحات کے حوالے سے جیتن رام مانجھی نے مرکزی حکومت کی تعریف کی اور کہا کہ اتنا بڑا تحفہ پہلے کسی حکومت سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا ’’میں 46 سال سے سیاست میں ہوں، اتنا بڑا تحفہ بھارت کے عوام کو کسی حکومت نے نہیں دیا۔ نریندر مودی حکومت صرف غریبوں کے لیے کام کرتی ہے۔‘‘

مودی نے گجرات کو ’’دو موہن‘‘ — سدرشن چکر دھاری موہن (شری کرشن) اور چرکھا دھاری موہن (مہاتما گاندھی) — کی سرزمین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان دونوں کے دکھائے ہوئے راستے پر چل کر مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ’’سدرشن چکر دھاری موہن نے ہمیں ملک و سماج کی حفاظت کا سبق دیا، جبکہ چرکھا دھاری موہن نے خود انحصاری کے ذریعے خوشحالی کا راستہ دکھایا۔‘‘