وزیر اعظم نریندر مودی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو گجرات کے احمدآباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کانگریس قیادت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں دہشت گرد ’’ہمارا خون بہاتے رہے‘‘ اور دہلی میں بیٹھی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے تحت اب کوئی بھی دہشت گرد یا اس کا سرپرست، چاہے کہیں بھی چھپا ہو، بخشا نہیں جاتا۔
آپریشن سندور اور فوج کی بہادری
وزیراعظم مودی نے بھارت کی مضبوط سکیورٹی پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے ’’آپریشن سندور‘‘ کو فوج کی جرأت اور ملک کے عزم کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے اسے بھگوان شری کرشن کے ’’سدرشن چکر‘‘ سے تشبیہ دی، جو انصاف اور سلامتی کا ہتھیار ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا: ’’پہلگام کا بدلہ دنیا نے دیکھا۔ صرف 22 منٹ میں مکمل صفایا۔ آپریشن سندور ہماری فوج کی شجاعت اور بھارت کے عزم کی پہچان بن گیا ہے۔‘‘
گجرات کی سرزمین سے دو موہن کا پیغام
مودی نے گجرات کو ’’دو موہن‘‘ — سدرشن چکر دھاری موہن (شری کرشن) اور چرخہ دھاری موہن (مہاتما گاندھی) — کی سرزمین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان دونوں کے دکھائے ہوئے راستے پر چل کر مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ’’سدرشن چکر دھاری موہن نے ہمیں ملک و سماج کی حفاظت کا سبق دیا، جبکہ چرخہ دھاری موہن نے خود انحصاری کے ذریعے خوشحالی کا راستہ دکھایا۔‘‘
گاندھی کے اصولوں سے انحراف کا الزام
وزیراعظم نے کانگریس پر مہاتما گاندھی کے ’سودیشی‘ اور ’سووچھتا‘ کے اصولوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے برسوں گاندھی کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹے، آج ان کے منہ سے ’سودیشی‘ اور ’سووچھتا‘ کا ذکر نہیں آتا۔ ’یہ ملک نہیں سمجھ پا رہا کہ ان کی سمجھ کو کیا ہو گیا ہے۔‘
گجرات میں ترقیاتی منصوبے
اس سے قبل وزیراعظم مودی نے گجرات میں 1400 کروڑ روپے سے زائد کے ریلوے منصوبے قوم کے نام وقف کیے، جن میں 65 کلومیٹر مہسانہ-پالن پور ریلوے لائن کی ڈبلنگ، 37 کلومیٹر کالول-کاڈی-کاٹوسن روڈ لائن اور 40 کلومیٹر بیچرا جی-رانوج لائن کی گیج تبدیلی شامل ہے۔ یہ منصوبے گجرات میں بہتر رابطہ اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم قرار دیے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



