Bharat Express DD Free Dish

Minister for Minority Welfare: تلنگانہ میں سیاسی ہلچل، محمد اظہرالدین کی وزارت پر لٹکی تلوار، کیا ہے 30 اپریل کی ڈیڈلائن؟

محمد اظہرالدین کی کرسی خطرے میں نظرآرہی ہے۔ آئین کے مطابق اگر کوئی شخص رکن اسمبلی یا قانون ساز کونسل (MLC) کا رکن نہ ہو تو وہ صرف چھ ماہ تک ہی وزیر رہ سکتا ہے۔ محمد اظہرالدین نے اب تک رکنیت نہیں حاصل کی ہے اور یہ مدت 30 اپریل 2026 کو ختم ہو رہی ہے

حیدرآباد/نئی دہلی: تلنگانہ کی سیاست میں اس وقت ایک دلچسپ موڑ آ چکا ہے جہاں ریاست کے اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اظہرالدین کی کرسی خطرے میں نظر آ رہی ہے۔ آئین کے مطابق اگر کوئی شخص رکن اسمبلی یا قانون ساز کونسل (MLC) کا رکن نہ ہو تو وہ صرف چھ ماہ تک ہی وزیر رہ سکتا ہے، اور یہ مدت 30 اپریل 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ محمد اظہرالدین نے 31 اکتوبر 2025 کو وزیر کے طور پر حلف لیا تھا، لیکن اب تک وہ نہ تو ایم ایل اے بن سکے ہیں اور نہ ہی ایم ایل سی۔  اگر 30 اپریل تک انہیں قانون ساز کونسل کی رکنیت نہیں ملتی تو انہیں وزارت سے استعفیٰ دینا پڑ سکتا ہے۔

گورنر کی منظوری کا انتظار

ریاست کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے محمد اظہرالدین کو گورنر کوٹے سے ایم ایل سی بنانے کی سفارش کی ہے، لیکن گورنر شیو پرتاپ شکلا نے اب تک اس فائل کو منظوری نہیں دی۔ اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت وہ معاملہ بتایا جا رہا ہے جو گورنر کوٹے کی تقرریوں سے متعلق ہے۔

سیاسی اور قانونی پیچیدگیاں برقرار

اطلاعات کے مطابق گورنر کے پاس حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن سے جڑے کچھ پرانے معاملات اور شکایات بھی پہنچی ہیں، جن کی بنیاد پر نامزدگی پر غور کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ گورنر کوٹے کے تحت انہی افراد کو نامزد کیا جاتا ہے جنہوں نے ادب، سائنس، فن یا سماجی خدمات میں نمایاں کام کیا ہو، جس پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کانگریس کی حکمت عملی، پلان بی بھی تیار

انڈین نیشنل کانگریس محمد اظہرالدین کو کھونا نہیں چاہتی، کیونکہ وہ ریاست میں ایک اہم مسلم چہرہ سمجھے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر وقت پر منظوری نہ ملی تو وہ عارضی طور پر استعفیٰ دے سکتے ہیں اور بعد میں دوبارہ وزیر بنائے جا سکتے ہیں، تاکہ انہیں دوبارہ چھ ماہ کی مہلت مل جائے۔ کابینہ میں ردوبدل بھی ایک ممکنہ راستہ بتایا جا رہا ہے۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی بڑی آبادی کے پیش نظر محمد اظہرالدین کو ایک اہم سیاسی چہرہ مانا جاتا ہے۔ اب سب کی نظریں 30 اپریل کی ڈیڈ لائن پر ہیں کہ آیا گورنر کی منظوری آتی ہے یا انہیں وزارت چھوڑنی پڑتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read