Bharat Express DD Free Dish

BJP allegation

متابنرجی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے بڑے پیمانے پر ووٹنگ کر کے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور یہ نتائج 4 مئی کو واضح ہو جائیں گے۔

بی جے پی رہنما نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ممتابنرجی اور ان کی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جمہوری عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرز کے طریقوں کے ذریعے ماضی میں انتخابی فائدہ حاصل کیا گیا۔

ویڈیو میں سیانی گھوش کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا گیا: ’’چڈھا، چڈی بن سکتا ہے‘‘ جو کہ راگھو چڈھا کے حوالے سے کہا گیا، جنہوں نے حال ہی میں عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ جملہ نہ صرف ایک سیاسی طنز تھا بلکہ اس میں سکھ اور پنجابی شناخت کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

عام آدمی پارٹی (AAP) کو جمعہ کے روز بڑا جھٹکا دیتے ہوئے راجیہ سبھا  کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا نے سندیپ پاٹھک اور اشوک مِتّل سمیت کئی ارکان کے ساتھ پارٹی چھوڑنے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ جہاں ایک طرف 60 لاکھ سے زائد حقیقی ووٹرز کی درخواستیں زیر التوا ہیں اور غلط عمل کے باعث 200 سے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں، وہیں الیکشن کمیشن مشتبہ طور پر بڑی تعداد میں جعلی درخواستوں کو تیزی سے نمٹا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بھی خلاف ہے اور مغربی بنگال میں آزاد و منصفانہ انتخابات پر براہِ راست حملہ ہے۔

دہلی کی مبینہ ایکسائز (شراب) پالیسی گھوٹالہ کیس میں بڑا عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس میں دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو بڑی راحت مل گئی ہے۔ کورٹ نے دونوں لیڈروں کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے واضح کیا کہ مقدمے میں کسی مجرمانہ سازش کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔

سابق مرکزی وزیر آر کے سنگھ نے بہار اسمبلی انتخابات کے دوران مجرمانہ پس منظر رکھنے والوں کو ٹکٹوں کی تقسیم پر تنقید کی تھی۔ جس کا نوٹس لیتے ہوئے بی جے پی نے معطلی کا نوٹس دیا تھا، آج باضابطہ طور انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

جہاں ایک طرف حکومت اسے ووٹر لسٹ کی شفافیت کا عمل قرار دے رہی ہے، وہیں اپوزیشن اسے جمہوری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی کارروائی مان رہی ہے۔ بہار کی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔