نئی دہلی: انڈین نیشنل کانگریس نے ورلڈ پریس فریڈم ڈے صحافت کے موقع پر بھارت میں پریس کی آزادی کی صورتحال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026 میں 157ویں مقام پر پہنچ گیا ہے جو ’’انتہائی سنگین‘‘ زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آزاد صحافت جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے ان صحافیوں اور آوازوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جو سچ بولنے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ’’آزاد صحافت جمہوریت کی آواز ہے، مگر آج یہ آواز نشانے پر ہے۔ ہم ہر اس بے خوف آواز کے ساتھ کھڑے ہیں جو طاقت کے سامنے سچ بولتی ہے اور جمہوریت کے دفاع کے لیے لڑتی ہے۔‘‘
A free press is the voice of democracy, but today that voice is under attack. India ranks 157 in the World Press Freedom Index 2026, falling into the “very serious” category.
On World Press Freedom Day, the Congress party stands firmly with every fearless voice that speaks truth… pic.twitter.com/qbluVtzaqW
— Congress (@INCIndia) May 3, 2026
ورلڈ پریس فریڈم ڈے کی اہمیت
ہر سال 3 مئی کو ورلڈ پریس فریڈم ڈے منایا جاتا ہے، جو حکومتوں کو ان کے وعدوں کی یاد دہانی کراتا ہے کہ وہ صحافت کی آزادی کا احترام کریں۔ یہ دن میڈیا کے پیشہ ور افراد کے لیے بھی خود احتسابی اور پیشہ ورانہ اصولوں پر غور کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں صحافت کی آزادی کے بنیادی اصولوں کا جشن منایا جاتا ہے، میڈیا کی خودمختاری پر حملوں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے اور ان صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جانیں قربان کیں۔ ورلڈ پریس فریڈم ڈے کو یونائیٹیڈ نیشنل جنرل اسمبلی نے 1993 میں باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا، جس کی بنیاد UNESCO کی جنرل کانفرنس (1991) کی سفارش پر رکھی گئی۔ یہ فیصلہ دراصل 1991 میں افریقی صحافیوں کی جانب سے پیش کی گئی ونڈہوک اعلامیہ کے پس منظر میں کیا گیا تھا، جسے عالمی سطح پر صحافتی آزادی کے لیے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جاتا ہے۔
ونڈہوک اعلامیہ: آزادی صحافت کا سنگ میل
ونڈہوک اعلامیہ 1991 میں نمیبیا کے شہر ونڈہوک میں منعقدہ ایک سیمینار کے دوران سامنے آیا، جہاں افریقی صحافیوں اور میڈیا ماہرین نے آزاد، خودمختار اور متنوع میڈیا کے فروغ پر زور دیا۔ اس اعلامیے نے نہ صرف افریقہ بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی آزادیِ صحافت، خودمختاری اور تنوع کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا اور آج بھی اسے اس شعبے کے لیے ایک رہنما اصول کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کانگریس کے اس بیان نے ایک بار پھر بھارت میں میڈیا کی آزادی اور اس کے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں آزاد صحافت کو درپیش چیلنجز جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اس پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




