Bharat Express DD Free Dish

Political reaction

سماجوادی پارٹی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں تین لاکھ سے زیادہ مرکزی فورسز تعینات کی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش اور بہار سے بڑی تعداد میں فورسز کو انتخابی ڈیوٹی کے لیے مغربی بنگال لایا گیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب اتر پردیش میں انتخابات ہوں گے تو وہاں بنگال، آسام، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش سے فورسز بھیجی جائیں گی۔

کانگریس کے اس بیان نے ایک بار پھر بھارت میں میڈیا کی آزادی اور اس کے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں آزاد صحافت کو درپیش چیلنجز جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اس پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

منوج تیواری نے اپنے بیان میں ڈی ایم کے، کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں محض تقریروں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پارٹیاں حقیقت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت سے خوفزدہ ہیں۔

شالینی سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ہزاروں افراد اکٹھا ہو کر تشدد پر اتر آئیں تو یہ واضح طور پر پولیس اور خفیہ نظام کی ناکامی ہے۔  انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ انتظامیہ کو اس احتجاج کے ممکنہ خطرناک رخ کا اندازہ تک نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ سکیورٹی نظام میں بڑی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اٹھائے گئے اقدامات کے بعد ملک میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دستیاب پیداوار کو گھریلو صارفین تک پہنچانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

ممتا بنرجی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا ’’آج ان کی پارٹی ملک کی 21 ریاستوں میں حکومت بنا چکی ہے۔ مودی جی اس دن سب سے زیادہ خوش ہوں گے جب 22ویں ریاست کے طور پر بنگال میں بھی بی جے پی کی حکومت بنے گی۔‘‘

واضح رہے کہ 14 جنوری کو سنبھل کی سی جے ایم عدالت نے تشدد کے ایک معاملے میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوج  چودھری، انسپکٹر انوج تومر اور دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ الزامات کے مطابق سنبھل تشدد کے دوران ایک نوجوان کو گولی لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ بی جے پی نے اسے سچ کی جیت قرار دیا ہے جبکہ کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں فیصلے کے وقت، اس کے اثرات اور حکومت کے رول پر سوال اٹھا رہی ہیں۔