نئی دہلی: ملک میں ایل پی جی سلنڈروں کی مبینہ قلت کی خبروں کے درمیان کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم درست ثابت ہوں گے، تاہم موجودہ صورتحال اس کی تصدیق نہیں کرتی۔ وزیراعظم مودی نے ایک روز قبل شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ بھارت اس گیس بحران پر بھی اسی طرح قابو پا لے گا جیسے اس نے کووڈ-19 کے دوران چیلنجز کا مقابلہ کیا تھا۔ پرینکا گاندھی نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا: ’’مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم درست ہوں گے، لیکن فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔‘‘
راہل گاندھی کی حکومت پر تنقید
ادھر راہل گاندھی نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایندھن کا بحران مزید بڑھ سکتا ہے اور وزیراعظم کو فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عوام کے مفادات اور توانائی کی ضروریات محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی توانائی سلامتی متاثر ہوئی ہے اور غلط خارجہ پالیسی نے اس مسئلے کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس اب بھی کچھ وقت ہے کہ وہ مناسب تیاری کرے، ورنہ کروڑوں لوگوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال غیر یقینی کی طرف بڑھ رہی ہے اور حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا تاکہ ہندوستانی عوام کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔
پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ
اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران ایل پی جی کی مبینہ قلت کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ ایسے اہم مسائل پر پارلیمنٹ میں گفتگو ہونی چاہیے تاکہ عوام کو یقین دہانی کرائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر ایل پی جی سلنڈر کے لیے لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور بعض ریستورانوں نے گیس نہ ہونے کے باعث کھانا پکانے میں مشکلات کی شکایت کی ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ عوام کے سامنے ان مسائل کو رکھنے اور حکومت سے وضاحت طلب کرنے کا مناسب پلیٹ فارم ہے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ اٹھائے گئے اقدامات کے بعد ملک میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دستیاب پیداوار کو گھریلو صارفین تک پہنچانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


