نئی دہلی: کانگریس نے مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے پارٹی رہنما میناکشی نٹراجن کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج نئی دہلی کے جنتر منتر پر ’’ستیہ گرہ‘‘ احتجاج کا اعلان کیا۔ یہ احتجاج انتخابی حکام کی جانب سے میناکشی نٹراجن کے نامزدگی فارم مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ حکام نے حلف نامے میں مبینہ بے ضابطگیوں کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا تھا، تاہم کانگریس نے اس اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔ اس معاملے پر اعتراض درج کرانے کے لیے رواں ہفتے کانگریس کے 10 رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی تھی۔ وفد نے نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔
راہل گاندھی کی الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر تنقید
لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دونوں کے درمیان ’’جوگل بندی‘‘ کا الزام لگایا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ووٹ چوری‘‘ اور ’’سرکار چوری‘‘ کے بعد اب ’’سیٹ چوری‘‘ کے ذریعے راجیہ سبھا انتخابات کا مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔
بی جے پی کے اعتراض پر نامزدگی مسترد کرنے کا الزام
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ میناکشی نٹراجن نے تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کرائے تھے اور ان کے خلاف کوئی زیر التوا معاملہ نہیں تھا، اس کے باوجود بی جے پی کے ایک معمولی اعتراض کی بنیاد پر ان کے کاغذات مسترد کر دیے گئے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ جھارکھنڈ سے راجیہ سبھا کے بی جے پی حمایت یافتہ آزاد امیدوار پریمل ناتھوانی نے اپنے فارم میں متعدد لازمی معلومات درج نہیں کی تھیں اور اپنے نام میں بھی غلطی کی تھی، لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں خامیاں دور کرنے کے لیے اضافی وقت فراہم کیا۔ میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو جمہوری عمل پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے، جبکہ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو سیاسی اور قانونی دونوں سطحوں پر اٹھائے گی۔ جنتر منتر پر ہونے والا آج کا ستیہ گرہ اسی احتجاجی مہم کا حصہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



