Bharat Express DD Free Dish

political protest

دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ حفاظتی وجوہات کی بنا پر 12 اکتوبر کو شام 4 بجے تک کچھ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلے اور خارجی راستے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ان کے سیاسی مخالفین کی سب سے بڑی پہچان ’بزدلی‘ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اب آہستہ آہستہ ان کے اردگرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مارچ میں کانگریس، این سی پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی شرکت کی دعوت۔ احتجاج سے قبل سنجے راؤت نے کہا کہ یہ احتجاج جمہوری اداروں، انتخابی عمل اور شہریوں کے آئینی حقوق کو مبینہ طور پر کمزور کرنے کی کوششوں کے خلاف اجتماعی ردعمل ہے۔

’انڈیا‘ اتحاد کی ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والی میٹنگ میں 20 جماعتوں کی شرکت، ملک بھر میں ’سیو ڈیموکریسی مارچ‘ نکالنے کا اعلان، اپوزیشن لیڈران اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کا وقت مانگیں گے۔

آج اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے احاطے میں حکومت کے خلاف سیاہ لباس پہن کر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر(قائد حزب اختلاف) راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران اپوزیشن کے متعدد ارکان پارلیمنٹ اور کارکن وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے تھے۔ کچھ دیر بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے رہنماؤں اور مظاہرین کو وہاں سے ہٹا کر مختلف مقامات پر منتقل کیا اور بھیڑ کو منتشر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پرینکا گاندھی واڈرا کو مندر مارگ تھانے، راہل گاندھی کو چھترسال اسٹیڈیم اور کئی دیگر ارکان پارلیمنٹ کو کنگز وے کیمپ کے علاقے میں لے جایا گیا ہے۔

کانگریس کا احتجاج نیٹ-یو جی 2026 پیپرلیک معاملے اور غیر مسلح طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر ایک روز قبل پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے بعد کیا گیا۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے گرفتاری پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ بزدل ہیں۔ یہ خوف زدہ ہیں۔ ہم ان سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ یہ ہم سے خوف زدہ ہیں۔‘‘

کانگریس رہنماؤں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کانگریس کے لیڈروں کا وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب پیدل مارچ۔

اس معاملے پر اعتراض درج کرانے کے لیے رواں ہفتے کانگریس کے 10 رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی تھی۔ وفد نے نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

احتجاج کے دوران بی جے پی خواتین اراکین پارلیمنٹ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر رہی تھیں۔ جن لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ان میں مرکزی وزیرمملکت رکشا کھڈسے، بی جے پی رکن پارلیمنٹ بانسری سوراج اور کمل جیت سہراوت شامل ہیں۔