Bharat Express DD Free Dish

opposition politics

راہل گاندھی نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات اور الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج کو آئینی جدوجہد قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس تحریک کا مقصد انتخابی عمل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جو ان کے بقول طویل مدتی اقتصادی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔

رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت جو بات کہہ رہے ہیں، وہی بات ہم بھی کہہ رہے ہیں۔ راوت کے مطابق، منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت کو ہٹا کر بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی تھی، لیکن اب لوگ اس حکومت سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ کی حکومت کو ہٹانا ایک غلطی تھی اور موہن بھاگوت بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔

ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا ہے، تشدد کی حمایت نہیں۔ پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ اس طرح کے بیانیے کے ذریعے مسلمانوں کو فطری طور پر تشدد پسند، انتہا پسند، وحشی اور غیر مہذب دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ یورپ میں ہونے والے احتجاج کو محض ’مسلم مسئلہ‘ بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق، اس کا بالواسطہ پیغام یہ ہے کہ ہندوستان کو بھی اپنے ’مسلم مسئلے‘ سے خبردار رہنا چاہیے۔

رام مندر کے چندے میں مبینہ خرد برد کے معاملے پر سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں 25 جون کو ایودھیا کے رام مندر میں موصول ہونے والے عطیات میں مبینہ خرد برد کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو اپنی تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق، تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ معاملے کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے اور کسی بھی قصوروار کو بخشا نہ جائے۔

پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ اپنی تنظیمی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپوزیشن کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کو نصیحت دی۔

اس معاملے پر اعتراض درج کرانے کے لیے رواں ہفتے کانگریس کے 10 رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی تھی۔ وفد نے نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں نامزدگی مسترد ہونے پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وینوگوپال نے مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف بی جے پی کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کا چیلنج موجود ہے، تو دوسری طرف اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات بھی اتحاد کے لیے امتحان بن چکے ہیں۔

ملند دیوڑا نے دعویٰ کیا کہ اقتصادی اور سیاسی میدان میں کانگریس نے اس راستے سے ہٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے جو یو پی اے دور میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’منموہن اکنامکس سے بھی اور پرانی کانگریس سے بھی نمایاں انحراف ہوا ہے۔‘‘