Congress Protest at Ramlila Maidan: ’’مودی سے کہیے گیانیش کمار کو برطرف کریں، 30 سیکنڈ میں احتجاج ختم ہوجائے گا‘‘ دہلی کے تاجروں سے راہل گاندھی کی اپیل
راہل گاندھی نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات اور الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج کو آئینی جدوجہد قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اس تحریک کا مقصد انتخابی عمل کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جو ان کے بقول طویل مدتی اقتصادی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
Regime Change: راہل گاندھی کے ویتنام سے لوٹتے ہی ہوگا ’رجیم چینج‘، سنجے راوت کے بیان سے سیاسی ہلچل
رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت جو بات کہہ رہے ہیں، وہی بات ہم بھی کہہ رہے ہیں۔ راوت کے مطابق، منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت کو ہٹا کر بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی تھی، لیکن اب لوگ اس حکومت سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ کی حکومت کو ہٹانا ایک غلطی تھی اور موہن بھاگوت بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔
Congress rejects ‘regime change’ allegations: ’’ہندوستان نہ بنگلہ دیش ہے، نہ فرانس‘‘ کانگریس نے اقتدار کی تبدیلی کی سازش کے الزامات کیے مسترد
ششی تھرور نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا ہے، تشدد کی حمایت نہیں۔ پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ اس طرح کے بیانیے کے ذریعے مسلمانوں کو فطری طور پر تشدد پسند، انتہا پسند، وحشی اور غیر مہذب دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ یورپ میں ہونے والے احتجاج کو محض ’مسلم مسئلہ‘ بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق، اس کا بالواسطہ پیغام یہ ہے کہ ہندوستان کو بھی اپنے ’مسلم مسئلے‘ سے خبردار رہنا چاہیے۔
Akhilesh Yadav targets BJP: ’’رام مندر غبن معاملے میں اکھلیش یادو نے بی جے پی کو بنایا نشانہ‘‘ کہا-’’حکومت نے آئین اور بھگوان رام دونوں سے کی غداری‘‘
رام مندر کے چندے میں مبینہ خرد برد کے معاملے پر سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں 25 جون کو ایودھیا کے رام مندر میں موصول ہونے والے عطیات میں مبینہ خرد برد کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو اپنی تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق، تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ معاملے کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے اور کسی بھی قصوروار کو بخشا نہ جائے۔
Never seen such surrender: کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی وزیراعظم مودی پر سخت تنقید، کہا-’’امریکی صدر کے سامنے نہیں کیا گیا بھارت کے مفاد کا دفاع‘‘
پون کھیڑا نے وزیراعظم مودی کی جانب سے ملاقات کے دوران تحریری نوٹس سے خطاب کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو بار بار پرچی دیکھ کر گفتگو کرنا پڑی، جس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں انہیں ’’سلپس پی ایم‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت جیسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ کو کسی بھی عالمی رہنما کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔
Political Defections: ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے‘‘ اسدالدین اویسی کا شیوسینا اور ٹی ایم سی پر طنز، کہا-’’اپوزیشن کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت‘‘
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ اپنی تنظیمی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپوزیشن کو خود احتسابی کرنی چاہیے۔ قرآن کی آیت کا حوالہ دے کر اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کو نصیحت دی۔
‘Satyagraha’ at Jantar Mantar: میناکشی نٹراجن کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف کانگریس کا جنتر منتر پر ’ستیہ گرہ‘ الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج
اس معاملے پر اعتراض درج کرانے کے لیے رواں ہفتے کانگریس کے 10 رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی تھی۔ وفد نے نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔
TMC-Congress Merger: ٹی ایم سی-کانگریس انضمام کی قیاس آرائیاں بے بنیاد، صرف انڈیا اتحاد کو مضبوط بنانے پر بات ہوئی: کے سی وینوگوپال
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں نامزدگی مسترد ہونے پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وینوگوپال نے مرکزی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے۔
INDIA Bloc Meeting: اختلافات کے باوجود اپوزیشن کے اتحاد کا دعویٰ، انڈیا بلاک کا اجلاس کل، 23 پارٹیاں ہوں گی شریک، ڈی ایم کے نے شامل ہونے سے کیا انکار
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف بی جے پی کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کا چیلنج موجود ہے، تو دوسری طرف اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات بھی اتحاد کے لیے امتحان بن چکے ہیں۔
Milind Deora hits out at Congress: میں نے کانگریس نہیں چھوڑا، کانگریس نے مجھے چھوڑ دیا، سابق مرکزی وزیر ملند دیوڑا کا چھلکا درد، کہا-پارٹی کا ہیومن ریسورس مینجمنٹ مکمل طور پر ہوچکا ہے ناکام
ملند دیوڑا نے دعویٰ کیا کہ اقتصادی اور سیاسی میدان میں کانگریس نے اس راستے سے ہٹ کر چلنا شروع کر دیا ہے جو یو پی اے دور میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا: ’’منموہن اکنامکس سے بھی اور پرانی کانگریس سے بھی نمایاں انحراف ہوا ہے۔‘‘





