ملک میں اقتدار کی تبدیلی کو لے کر اپوزیشن لیڈروں کے بیانات سے سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں ادھو ٹھاکرے کی پارٹی شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے بھی ملک کی موجودہ حکومت اور نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے اقتدار میں تبدیلی کی بات کہی ہے۔ سنجے راوت نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی فی الحال بیرون ملک ہیں اور ان کے ویتنام سے واپس لوٹنے پر بھارت میں اقتدار کی تبدیلی ہوگی۔
موہن بھاگوت کے بیان پر بھی بولے سنجے راوت
رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت جو بات کہہ رہے ہیں، وہی بات ہم بھی کہہ رہے ہیں۔ راوت کے مطابق، منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت کو ہٹا کر بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی تھی، لیکن اب لوگ اس حکومت سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ کی حکومت کو ہٹانا ایک غلطی تھی اور موہن بھاگوت بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے منگل کو وجے دشمی کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اقتدار کی تبدیلی سے حالات بدل جائیں گے، ایسا کبھی نہیں ہوا۔
سنجے راوت نے یورپ کی مثال دی
سنجے راوت نے اپنی بات کی تائید میں یورپ اور دیگر ممالک کی مثالیں بھی پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کا حکومت اور نظام سے اعتماد اٹھ جاتا ہے تو وہ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرتے ہیں۔ راوت کے مطابق، بھارت میں نوجوانوں نے اب تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کو اس کے لیے ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یورپ کے کئی ممالک میں تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ البانیہ میں مظاہرین نے ملک کی سپریم کورٹ کو آگ لگا دی۔ سنجے راوت نے اس واقعے کی ویڈیو فوری طور پر اپنی سوشل میڈیا ٹائم لائن پر شیئر کی اور بھارت کو اس سے سبق لینے کا مشورہ دیا۔ سنجے راوت نے کہا کہ البانیہ کے عوام کے غصے کا نشانہ سپریم کورٹ اس لیے بنی، کیونکہ وہ ایک بدعنوان وزیر اعظم کا دفاع کر رہی تھی۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ البانیہ میں مظاہرین پارلیمنٹ سے لے کر وزرا کے گھروں تک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

