Bharat Express DD Free Dish

Regime Change

رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت جو بات کہہ رہے ہیں، وہی بات ہم بھی کہہ رہے ہیں۔ راوت کے مطابق، منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت کو ہٹا کر بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی تھی، لیکن اب لوگ اس حکومت سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منموہن سنگھ کی حکومت کو ہٹانا ایک غلطی تھی اور موہن بھاگوت بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رجیجو نے احتجاج کی آڑ میں جمہوری اداروں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے پر اپوزیشن پارٹیوں اور کارکنوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’بھارت بنگلہ دیش نہیں ہے‘‘ اور کہا کہ بھارتی نوجوان ملک کو توڑنے کے بجائے اسے بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘ سے متعلق بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے ذریعے حکومت بدلنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے، کوئی سازش نہیں۔

کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’پیارے محب وطن ہندوستانیو، یاد رکھیں، اپنے دشمنوں کو ایک بار معاف کرو، دوستوں کو دو بار، لیکن غداروں کو کبھی نہیں۔‘‘ مرکزی وزیر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے پرشانت بھوشن کی پریس کانفرنس کی ایک ویڈیو شیئر کی۔ اس ویڈیو میں سینئر وکیل نے کھلے عام ’رجیم چینج‘ کے مطالبے کو تسلیم کیا تھا۔ پریس کانفرنس کے دوران بھوشن نے کہا تھا، ’’ہاں، ہم رجیم چینج چاہتے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ دکھایا ہے‘، جبکہ پرشانت بھوشن نے کہا کہ ’ہم سب اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ بھارت میں نوجوانوں کو احتجاج کے ذریعے یہ کر کے دکھانا ہوگا۔‘ بی جے پی کے حامی نیل کانت بخشی نے دونوں کے بیانات پر سوال اٹھائے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ تاہم، خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف فریقوں کے مفادات کے باعث آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

یہ تمام پیش رفت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے امریکی مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے ایران کو واضح کیا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح ایران کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے داخلی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے ناقدین کو ’’بیوقوف لوگ‘‘ قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی ’’رجیم چینج‘‘ کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ’’نیا گروپ‘‘ سامنے آ رہا ہے، جو بقول ان کے ’’بہت معقول رویہ‘‘ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں اور خطے میں بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز تعینات ہیں۔