Bharat Express DD Free Dish

Regime Change

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ تاہم، خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف فریقوں کے مفادات کے باعث آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

یہ تمام پیش رفت آبنائے ہرمز کو کھولنے کے امریکی مطالبے سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے ایران کو واضح کیا ہے کہ اگر اس اہم بحری راستے کو فوری طور پر بحال نہ کیا گیا تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح ایران کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے داخلی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے ناقدین کو ’’بیوقوف لوگ‘‘ قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی ’’رجیم چینج‘‘ کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک ’’نیا گروپ‘‘ سامنے آ رہا ہے، جو بقول ان کے ’’بہت معقول رویہ‘‘ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں اور خطے میں بڑی تعداد میں جنگی بحری جہاز تعینات ہیں۔