Bharat Express DD Free Dish

Iran’s oil hub: ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرہ پر قبضہ کی دھمکی، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’ایران کے تیل پر قبضہ ہماری سب سے بڑی ترجیح‘‘

ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح ایران کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے داخلی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے ناقدین کو ’’بیوقوف لوگ‘‘ قرار دیا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرہ پر قبضہ کر سکتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’ممکن ہے ہم خارگ جزیرہ لے لیں، ممکن ہے نہ لیں، ہمارے پاس بہت سے آپشنز ہیں۔‘‘ انہوں نے اس جزیرے کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں دفاع نہ ہونے کے برابر ہے اور اسے ’’بہت آسانی سے‘‘ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح ایران کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے داخلی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے ناقدین کو ’’بیوقوف لوگ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو امریکی افواج کو کچھ عرصے تک خارگ جزیرے میں موجود رہنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے اپنی حکمت عملی کا موازنہ وینزویلا میں امریکی پالیسی سے کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ تیل کے ذخائر پر طویل مدت تک کنٹرول قائم رکھ سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے اور اس پر کنٹرول خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

مذاکرات اور فوجی کارروائی ساتھ ساتھ

دوسری جانب ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مذاکرات‘‘ جاری ہیں اور جلد کوئی ڈیل ہو سکتی ہے۔  انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 آئل ٹینکر گزرنے کی اجازت دی ہے جسے انہوں نے ’’احترام کی علامت‘‘ قرار دیا۔  ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے حالیہ کارروائیوں میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور مذاکرات براہ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر جاری ہیں۔

ایران اور ترکی کے درمیان رابطہ

ادھر ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن رضا نے ترک وزیر دفاع یاسر گولر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے ایران کے خلاف جاری ’’جارحانہ فوجی کارروائیوں‘‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور توانائی کے عالمی بازاروں پر اس کے اثرات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read