Bharat Express DD Free Dish

UP SIR

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی تعداد میں جمع کرائے گئے فارم 7 میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے کی ہدایت الیکشن کمیشن کو دی ہے۔ عدالت نے ان شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کمیشن سے فوری کارروائی اور رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔

اتر پردیش میں ایس آئی آر مہم کے ذریعے 2.04 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے باوجود ڈپلیکیٹ ووٹر کارڈوں کا معاملہ سامنے آگیا، ایک ہی شخص کے نام پر چار الگ الگ ووٹر آئی ڈی کارڈ جاری ہونے اور بعض مقامات پر ایک ہی ووٹر کا نام 10 بار تک درج ہونے کے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل تصدیقی نظام اور ووٹر لسٹ کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ جب ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور پوری ووٹر لسٹ کی ریویژن ہو گئی ہے تو پھر فارم 7 لینے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹر لسٹ پہلے ہی درست کی جا چکی ہے تو ووٹ کاٹنے کے لیے الگ سے فارم 7 کیوں استعمال کیا جا رہا ہے۔

اتر پردیش میں ایس آئی آر کے تحت دعووں اور اعتراضات کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔ حتمی فہرست 10 اپریل کو جاری کی جائے گی۔

مین پوری رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادونے ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کرایس آئی آرمہم کے دوسرے مرحلے میں سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے تاخیرسے شروع ہوئی اس مہم اور نوٹس جاری کرنے کی سست رفتاری پرتشویش کا اظہارکیا ہے، جس سے 'نو میپنگ رائے دہندگان کے متاثرہونے کا الزام لگایا ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے منگل کے روز خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت اتر پردیش کی ووٹر لسٹ کا ڈرافٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے مطابق ریاست میں اہل ووٹروں کی مجموعی تعداد 12.55 کروڑ سے زائد ہے، تاہم اس عمل کے دوران تقریباً 2.89 کروڑ نام لسٹ سے کاٹے گئے ہیں۔