Bharat Express

Sonia Gandhi

اس سے پہلے کانگریس نے تین سطری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اپنے تمام لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ کو 2 اپریل سے 4 اپریل تک ایوان میں موجود رہنے کی ہدایت کی تھی۔

بی جے پی ممبران پارلیمنٹ نے کانگریس کی راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سونیا گاندھی اور آزاد ممبر پارلیمنٹ پپو یادو کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کا نوٹس دیا ہے۔ یہ نوٹس بی جے پی نے دونوں لیڈروں کے خلاف صدر کی توہین کرنے پر دیا ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے پہلے دن صدر جمہوریہ دروپدی مرموکے افتتاحی خطاب پرکانگریس کی سینئرلیڈرسونیا گاندھی کے تبصرہ کے بعد سیاسی گھمسان مچ گیا ہے۔ بی جے پی نے جہاں اس تبصرہ کی تنقید کی۔ وہیں، راشٹرپتی بھون نے اس تبصرہ کوبدقسمتی والا قرار دیا۔ وہیں اب بی جے پی کے قومی صدرجگت پرکاش …

پی ایم مودی نے کہا کہ انہیں (کانگریس) قبائلی بیٹی کی بات سننا بورنگ لگتا ہے۔ یہ ملک کے 10 کروڑ قبائلی بھائیوں اور بہنوں کی توہین ہے۔ یہ ملک کے ہر قبائلی بھائی بہن کی توہین ہے، انہوں نے کہا کہ کانگریس ہر قدم پر غریبوں، دلت قبائلیوں کی تذلیل کرتی ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ میں پارٹی کے تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ ہمیں نیا ہیڈکوارٹر ملا ہے۔ یہ کوئی عام عمارت نہیں بلکہ یہ عمارت محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

آخری رسومات دہلی کے نگم بودھ گھاٹ پر 11:35ادا کی جائیں گی۔ صدر دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔

سونیا گاندھی منموہن سنگھ کی وزارت عظمیٰ کے دوران کانگریس کی صدر تھیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستانی سیاست سے وابستہ ہر قسم کے لوگ ان سے مشورہ اور رائے لیتے تھے۔ اپنے وسیع علم اور سیاست میں اونچے قد کی وجہ سے دنیا بھر کے لیڈروں اور دانشوروں میں ان کا احترام کیا جاتا تھا۔ وہ جس بھی عہدے پر فائز رہے، انہوں نے اپنی قابلیت اور کمال سے اس کا وقار بڑھایا۔ انہوں نے ملک کو عزت اور وقار بھی بخشا۔

سال 2004 میں یوپی اے کی جیت کے بعد جب سبھی کولگا کہ سونیا گاندھی وزیراعظم بنیں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا گیا۔

یو پی اے کے دور حکومت میں، نہرو کے ذاتی خطوط 51 ڈبوں میں پیک کر کے سونیا گاندھی کو بھیجے گئے تھے۔ نہرو نے یہ خطوط ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن، البرٹ آئن اسٹائن، جے پرکاش نارائن، پدمجا نائیڈو، وجئے لکشمی پنڈت، ارونا آصف علی، بابو جگجیون رام اور گووند بلبھ پنت وغیرہ کو لکھے تھے۔

تجربہ کار کانگریس لیڈر نے کہا کہ آپ نے دیکھا، 2012 میں ہمارے لیے دو آفتیں رونما ہوئیں، ایک یہ کہ سونیا گاندھی بہت بیمار ہوگئیں اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کو چھ بائی پاس سرجری سے گزرنا پڑا۔ اس لیے ہم حکومت کے سربراہ اور پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے معذور ہو گئے۔