Bharat Express DD Free Dish

Sonia Gandhi

بی جے پی ترجمان نے کانگریس کی قیادت پر کیپٹن اسمت مچھار کی بہادری پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ کے معاملے پر انہوں نے متعدد مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، لیکن کیپٹن اسمت مچھار کے معاملے میں ان کی جانب سے ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں نتیش کمار کے ’انڈیا‘ بلاک سے الگ ہونے پر مبینہ تبصرے کے بعد سیاسی بیان بازی تیز، جے ڈی یو لیڈر للن سنگھ نے کہا - نتیش کمار نے اپنے کام کے دم پر بہار کی خدمت کی۔

راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا، درخواست میں 1980 کی ووٹر لسٹ میں نام شامل ہونے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔

2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی نئی ٹیم کے ساتھ تیاری میں مصروف، کانگریس میں کئی اہم عہدے خالی، پریانکا گاندھی کی تنظیمی ذمہ داری پر بھی ابہام اور ریاستی سطح پر اختلافات نے پارٹی کی مشکلات بڑھائیں

کھڑگے نے بی جے پی پر مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے ہلدوانی میں اپنی سیاسی ریلی کے بعد مبینہ طور پر مقام کی ’شدھی کرن‘ کرائے جانے کے معاملے پر سخت اعتراض کیا۔الزام ہے کہ 8 اگست کو کھڑگے کی ریلی کے دو دن بعد 10 اگست کو شری رام سینا نے اسی مقام پر گنگاجل کا چھڑکاؤ کیا اور ہون کیا۔ اس واقعے کے بعد سیاسی تنازع پیدا ہوگیا۔ کانگریس لیڈروں  نے الزام لگایا کہ یہ دلتوں کے خلاف امتیازی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

راہل گاندھی نے اپنی والدہ سونیا گاندھی کی پالتو کتیا ’نوری‘ کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ کانگریس نے اس موقع پر بے زبان جانوروں کے تئیں محبت، احترام اور ہمدردی کا پیغام دیا۔

مسلسل انتخابی شکستوں کے درمیان کیا سی جے پی کی طلبہ تحریک کانگریس کے لیے نئی زندگی ثابت ہوگی؟ نیٹ پیپر لیک کے بہانے اپوزیشن 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے پیشِ نظر مرکزی حکومت کو حکمتِ عملی کے تحت گھیرنے میں مصروف ہے۔ جانیے اس تحریک کا مکمل سیاسی حساب کتاب۔

سونیا گاندھی نے غزہ موضوع پرمرکزی حکومت کی خاموشی پرسوال اٹھائے۔ بی جے پی نے جواب دیتے ہوئے کانگریس پرغیرملکی پالیسی کوووٹ بینک سے جوڑنے کا الزام لگایا ہے۔

ایک دور تھا جب بھارتی سیاست میں کانگریس کا غلبہ تھا۔ اقتدار کی سیاست ہو یا تنظیمی طاقت، ہر رہنما کانگریس کے ساتھ کھڑا نظر آتا تھا۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے نئی دہلی میں صدر جمہوریہ  دروپدی مرمو اور نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن سے ملاقات کی۔ انہوں نے نیتی آیوگ کی میٹنگ میں کرناٹک کے ترقیاتی وژن کو پیش کیا اور سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سے بھی تبادلۂ خیال کیا۔