امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیرف لگانے کا خواب حقیقت میں بدل گیا ہے۔ امریکی ٹیرف کئی ممالک پر ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 1.30 بجے نافذ ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ اس ٹیرف کو مساوات کی ایک نئی شروعات اورامریکہ کے لیے نئی آزادی کا لمحہ قرار دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد آمدنی میں سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہونے والا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ممالک پر نئے ٹیرف کی شرحیں عائد کر دی ہیں۔ اس میں ہندوستان، چین، برطانیہ، کینیڈا جیسے کئی ممالک شامل ہیں۔
ان محصولات کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک نئی تجارتی جنگ کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ نئے فیصلے کے مطابق 3 اپریل سے امریکہ میں داخل ہونے والی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد ہونے جا رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کے بعد گاڑیوں کے مختلف حصوں پر بھی ٹیکس لگایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، خبر یہ ہے کہ ٹرمپ نے باہمی محصولات عائد کرنے کا ذہن بنا لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو بھی ملک امریکہ پر ٹیرف لگائے گا، امریکہ اس پر بھی وہی ٹیرف لگائے گا۔
BREAKING: This is Horrific!
Trump just announced the following Tariffs for the following countries and a 10% baseline tariff on all others not listed.
China – 34%
EU – 20%
Vietnam – 46%
Japan – 24%
Taiwan – 32$
India – 26%
Thailand – 36%
South Korea – 25%
Switzerland – 31%… pic.twitter.com/v8FySoDJeO— Ed Krassenstein (@EdKrassen) April 2, 2025
امریکی صدر نے ہندوستان پر 26 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا ہے ،وہیں پاکستان پر 29 فیصد جوابی ٹیرف لگادیاہے۔امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان ہم سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے، امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ تمام درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرے گا۔امریکہ غیرملکی ساختہ گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرے گا۔ٹرمپ نے کہا کہ آج کا دن امریکی تاریخ کے اہم دنوں میں سے ایک ہے۔ آج ہماری اقتصادی آزادی کا دن ہے۔وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک شکایت کرتا ہو، کوئی ملک چاہتا ہو کہ ٹیرف ریٹ صفر کردیا جائے تو پھر اسے اپنی مصنوعات امریکا میں تیار کرنا ہوں گی کیونکہ یہاں کوئی ٹیرف نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کمبوڈیا پر 49، جنوبی افریقا پر 30، انڈونیشیا پر 32، برازیل پر 10، سنگاپور پر 10 فیصد ٹیرف لگادیا۔امریکی صدر نے چین پر 34 فیصد، جاپان پر 24 فیصد و یتنام پر 46 فیصد، تائیوان پر 32 فیصد، جنوبی کوریا پر 25 فیصد لگادیا۔اس سے قبل صدر ٹرمپ نے خود تمام سٹیل اور ایلومینیم پر فلیٹ ڈیوٹی بڑھا کر 25 فیصد کر دی تھی۔ اس کے علاوہ چین سے درآمد کی جانے والی تمام اشیاء پر ٹیرف بڑھا کر 20 فیصد کر دیا گیا۔ میکسیکو سے آنے والی بہت سی اشیاء پر پہلے ہی ٹیرف بڑھا دیا گیا تھا۔ ٹرمپ کے مشیروں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے ہر ملک پر 20 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے۔ اس کے علاوہ امریکہ ان ممالک پر بھی بھاری ٹیکس عائد کرنے جا رہا ہے جو وینزویلا سے تیل درآمد کرتے ہیں۔
کون سے ممالک ٹرمپ کے محصولات کے تابع ہوں گے؟
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کچھ ممالک کا نام ‘ڈرٹی 15’ رکھا ہے، یعنی یہ وہ تمام ممالک ہیں جو ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس فہرست میں چین، یورپی یونین، میکسیکو، ویت نام، آئرلینڈ، جرمنی، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا، کینیڈا، بھارت، تھائی لینڈ، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔اگرچہ ہندوستان اور امریکہ بہت سی چیزوں پر تجارت کرتے ہیں لیکن وزارت تجارت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت دنیا کی قدیم ترین جمہوریت سے 5 زیادہ چیزیں خریدتی ہے۔ بھارت امریکہ سے پیٹرولیم خام، سونا، پیٹرولیم مصنوعات، الیکٹرانک اجزاء اور کوئلہ درآمد کرتا ہے۔ اب ان تمام اشیاء پر ٹیرف بڑھے گا، یعنی ہندوستان کو ان اشیا کے لیے زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔
امریکہ بھارت سے کون سی اشیاء درآمد کرتا ہے؟
وہیں امریکہ بھارت سے بہت سی چیزیں درآمد کرتا ہے۔ اس فہرست میں پیٹرولیم، ادویات، ٹیلی کام کے آلات، موتی اور قیمتی پتھر، برقی مشینری شامل ہیں۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارت ان اشیاء پر کچھ ٹیرف کم کر سکتا ہے، وہ بھی امریکہ کی طرف سے بھی ٹیرف میں کمی کے بعد۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان کچھ اہم بات چیت ہوئی ہے، پی ایم او نے بھی مداخلت کی ہے، ایسی صورتحال میں مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


