Bharat Express DD Free Dish

Tariff War

قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ایسے ممالک کو استثنیٰ دیا جا سکتا ہے جن کی روس سے قدرتی گیس کی درآمد، روس کی مجموعی گیس برآمدات کے 15 فیصد سے کم ہو اور جو ان درآمدات کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہوں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر کی اولین ترجیح تشدد کو روکنا ہے، ساتھ ہی ایران کے حکام کی جانب سے موصول ہونے والے نجی پیغامات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر نہیں چاہتے کہ تہران کی سڑکوں پر لوگوں کی جانیں جائیں، لیکن بدقسمتی سے فی الحال ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو چین کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اس کے خلاف 100 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ کی جانب سے چین پر عائد کیا گیا یہ نیا ٹیرف یکم نومبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو خراب کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا اور بعد میں روس سے بھارت کی  خام تیل کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا ،جس پر بھارت نے احتجاج کیا ہے۔

امریکی تجارتی وفد برینڈن لنچ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ٹیم کے ساتھ بھارت پہنچا ہے۔ بھارتی جانب سے وزارتِ تجارت کے افسران بھی ملاقات میں شامل ہوں گے۔

پی ایم مودی نے ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایکس  پر لکھا کہ وہ امریکی صدر کے جذبات اور تعلقات کے مثبت جائزے کی گہری قدر کرتے ہیں اور اس کا مکمل طور پر ساتھ دیتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کا دفاع کیا، لیکن انہوں نے پی ایم مودی کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو واضح طور پر اجاگر بھی کیا۔ انہوں نے کہا، "میں مودی جی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھتا ہوں۔ وہ ایک عظیم انسان ہیں۔ کچھ مہینے پہلے وہ یہاں (امریکہ) آئے تھے۔"

ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھی ہاورڈ لٹنک نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا موجودہ رویہ زیادہ دن نہیں چلے گا، بالآخر اُسے بات چیت کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔ ابتدا میں بڑے گاہکوں سے ٹکرانا اچھا لگتا ہے،

امریکہ کا الزام ہے کہ بھارت روسی خام تیل خرید کر ماسکو کو اقتصادی مدد فراہم کر رہا ہے، اور اس طرح بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ کو "ایندھن" فراہم کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔

امریکی عدالت کے اس فیصلے کو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے، اگرچہ عدالت نے ٹیرف کو 14 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔