بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت سے متعلق بات چیت ایک بار پھر شروع ہو رہی ہے۔ منگل کو نئی دہلی میں دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیدار آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ یہ ملاقات اس لیے خاص ہے کیونکہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری کو لے کر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس میں سے 25 فیصد روس سے براہ راست تیل خریدنے پر بطور جرمانہ لگایا گیا تھا۔ اسی وجہ سے اگست میں ہونے والے چھٹے دور کی تجارتی بات چیت ملتوی کر دی گئی تھی۔
برینڈن لنچ کی قیادت میں ملاقات
امریکی تجارتی وفد برینڈن لنچ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ٹیم کے ساتھ بھارت پہنچا ہے۔ بھارتی جانب سے وزارتِ تجارت کے افسران بھی ملاقات میں شامل ہوں گے۔
نوارو کا بھارت پر حملہ
اس ملاقات کو تجارتی مذاکرات کے مستقبل کے رخ کا تعین کرنے والی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، ماحول ابھی بھی کچھ حد تک کشیدہ ہے۔ صدر ٹرمپ کے مشیر پیٹر نوارو نے حال ہی میں بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی کسی ڈیل کے لیے بیتاب ہے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک کے رہنما معاہدے کے حوالے سے مثبت نظر آ رہے ہیں۔
وَزیر تجارت کا کیا کہنا ہے؟
وَزیر تجارت سنیل برتھوال نے بتایا کہ کئی سطحوں پر بات چیت جاری ہے، لیکن کچھ مسائل پر تاحال اتفاق نہیں ہو پایا ہے۔ خاص طور پر روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر امریکہ کا دباؤ برقرار ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس سے یوکرین جنگ کی مالی مدد ہوتی ہے۔
بھارت سے امریکہ کو ہونے والی برآمدات میں کمی
ادھر بھارت سے امریکہ کو ہونے والی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ اگست میں یہ اعداد و شمار 6.86 ارب ڈالر رہے جبکہ جولائی میں یہ 8.01 ارب ڈالر تھے۔ حکام کا ماننا ہے کہ ورچوئل بات چیت سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہو سکا کیونکہ ماحول سازگار نہیں تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
