Bharat Express DD Free Dish

India US relationship

ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا خیر مقدم کر کے خوشی ہوئی۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری میں مسلسل ترقی، علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے معاملات پر مثبت تبادلۂ خیال ہوا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ بھارت امریکہ کے لیے بے حد اہم ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات نہایت خاص نوعیت کے ہیں اور یہ رشتہ طویل مدتی بنیادوں پر قائم ہے۔

نئی دہلی میں امریکہ اور بھارت کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے ایک اہم سفارتی ملاقات اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو مستقبل میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی گئی۔

امریکی سینیٹ کے دو جماعتی گروپ نے ایک قرارداد پیش کی ہے، جس میں چین کو امریکہ کا سب سے بڑا دشمن اور اسٹریٹجک حریف قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سینیٹرز نے بیجنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ گہرے تعلقات اور مضبوط ہند-بحرالکاہل اتحاد پر زور دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے عہد میں جہاں ڈیجیٹل معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، وہیں سیمی کنڈکٹرز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی رسد کا نظام عالمی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی تناظر میں ”پیکس سیلیکا“ نامی ایک ابھرتا ہوا بین الاقوامی فریم ورک سامنے آیا ہے، جو امریکہ کی قیادت میں قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جس میں ہندوستان ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر اتفاقِ رائے نہیں بن سکا ہے۔ ایکسیوس (Axios) کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سے ہی اس معاہدے کی مخالفت ہو رہی ہے۔

بھارت میں امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے اس ہفتے کے آغاز میں باضابطہ طور پر اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ذمہ داریاں سنبھالتے ہی انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا سے ہوئی۔ اس ملاقات کو بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور مالی تعاون کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس حوالے سے اگلی باضابطہ ملاقات منگل کو ہونے جا رہی ہے۔ یہ بات بھارت میں حال ہی میں تعینات ہونے والے امریکی سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز نئی دہلی میں کہی۔

امریکی وزیر لوٹنک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے تجارتی معاہدے میں رکاوٹ اس لیے پیدا ہوئی کیونکہ وزیر اعظم مودی کی وجہ سے ٹرمپ کا ایگو زخمی ہوا۔ ٹرمپ چاہتے تھے کہ وزیر اعظم مودی انہیں فون کر کے منائیں، تاہم ٹرمپ کے برے مزاج کی وجہ سے وزیر اعظم نے کال نہیں کی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف سخت اقدامات کے بعد اب بھارت کو بھی براہِ راست انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی روسی تیل کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتا تو بھارتی درآمدات پر عائد موجودہ ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔