Bharat Express DD Free Dish

Tariff War

پہلے ان پر 2.1فیصد ٹیرف تھا، جو اب بڑھ کر 52فیصد ہو جائے گا۔ یہ شعبہ بھی بھارت میں بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتا ہے، جس میں 50 لاکھ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔

بھارت خام تیل درآمد کرتا ہے اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ امریکہ بھی ان ممالک میں شامل ہے جو بھارت سے ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات خریدتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ہندوستان سے درآمد ہونے والی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ پہلے سے لاگو 25 فیصد ٹیرف کے علاوہ ہے جو 20 جولائی سے لاگو تھا۔ اس طرح کل ٹیرف اب 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس کی وجہ ہندوستان کی طرف سے روسی خام تیل کی مسلسل درآمد کو بتایا ہے۔

جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ چین روس سے تیل بھی خریدتا ہے تو پھر بھارت کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا کہ ہم بھارت پر سیکنڈری سینکشن لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایسا کئی دوسرے ممالک پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک چین بھئی ہو سکتا ہے۔

تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی ٹیرف کا ہندوستانی معیشت پر ’’نہ کے برابر‘‘ اثر پڑے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جی ڈی پی کا نقصان 0.2 فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔

حزب اختلاف نے ٹرمپ کی طرف سے بھارت پر لگائے گئے اس ٹیرف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ہندوستان پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کے بعد حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ملک کو چلانا نہیں جانتی۔ اس حکومت نے ملک کی پوری معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ہندوستانی برآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ خام تیل اور دفاعی ساز و سامان کے لیے روس کے ساتھ ہندوستان کی مسلسل شراکت داری کے جواب میں اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

جنیوا میں دو دن تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد امریکا نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر محصولات کو 145 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنے پر اتفاق کیا۔

صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیرف وار کے درمیان سامنے آیا ہے۔ 10 اپریل کو چین نے اعلان کیا کہ اس نے چینی مارکیٹ میں ہالی ووڈ فلموں کی ریلیز کو قدرے کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سمیت 60 ممالک پر محصولات عائد کر رکھے ہیں،