Bharat Express DD Free Dish

Tariff War

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹ پڑ سکتی ہے، لاگت بڑھ سکتی ہے اور امریکی یوزر پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے چین سے آنے والی اشیا پر 245 فیصد تک کے نئے ٹیرف (درآمد ٹیکس) کا اعلان کیا ہے۔ اس سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکہ ٹیرف کے ساتھ نمبروں کا کھیل کھیلنا جاری رکھتا ہے تو چین اسے نظر انداز ہی کرے گا، کیونکہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

ادھرہندوستانی ایئرلائنز، جو عالمی سپلائی چین کی مشکلات کے باعث طیاروں کی خریداری میں دشواریوں سے دوچار ہیں، چین کی جانب سے اپنی ایئرلائنز کو بوئنگ طیاروں کی خریداری سے روکنے کی ہدایت سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

چین کے کسٹمز ٹیرف کمیشن نے کہا ’’اگر امریکہ اور زیادہ ٹیرف لگاتا ہے، تو اس کا کوئی مطلب نہیں رہے گا اور وہ عالمی اقتصادی تاریخ میں ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔‘‘

Elon Musk اس سے قبل صدر ٹرمپ کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے اور ان کا شمار ٹرمپ کے خصوصی مشیروں میں ہوتا تھا۔

چین نے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے گئے ٹیرف کا جواب دیتے ہوئے امریکی اشیا پر اضافی محصولات اور پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ بھارت سے بہت سی چیزیں درآمد کرتا ہے۔ اس فہرست میں پیٹرولیم، ادویات، ٹیلی کام کے آلات، موتی اور قیمتی پتھر، برقی مشینری شامل ہیں۔ اب خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارت ان اشیاء پر کچھ ٹیرف کم کر سکتا ہے، وہ بھی امریکہ کی طرف سے بھی ٹیرف میں کمی کے بعد۔