Bharat Express DD Free Dish

Tariff on India:بھارت پر آج صبح ساڑھے 9 بجے سے 50فیصد ٹیرف نافذ، کن اشیاء پر پڑے گا اثر؟

پہلے ان پر 2.1فیصد ٹیرف تھا، جو اب بڑھ کر 52فیصد ہو جائے گا۔ یہ شعبہ بھی بھارت میں بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتا ہے، جس میں 50 لاکھ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔

امریکہ کی ڈونالڈ ٹرمپ حکومت نے بھارت پر باضابطہ طور پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکہ پہلے ہی بھارت پر 25 فیصد جوابی (ریسیپروکل) ٹیرف نافذ کر چکا ہے، اور اب مجموعی طور پر بھارت کی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف لاگو ہو گیا ہے۔

امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی (Department of Homeland Security) کی جانب سے بھارت کو ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں اطلاع دی گئی ہے کہ 27 اگست کو رات 12 بج کر 1 منٹ (امریکی وقت کے مطابق) سے اضافی 25 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ اس وقت بھارت میں صبح کے تقریباً ساڑھے 9 بجے ہوں گے۔ نوٹس میں یہ بھی درج ہے کہ مقررہ وقت کے ایک سیکنڈ بعد اگر کوئی بھارتی مال امریکہ پہنچتا ہے تو اس پر بھی نئی ٹیرف کی شرح لاگو ہو گی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ بھارت پر اضافی ٹیرف اس وجہ سے عائد کیا گیا ہے کیونکہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے، جو امریکی مفادات کے لیے خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔

کن اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف لگے گا؟

بھارت ہر سال امریکہ کو 80 ارب ڈالر سے زائد کی اشیاء برآمد کرتا ہے۔ اس لیے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ کن اشیاء پر نیا ٹیرف اثر انداز ہو گا، اور اس کا معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔

ٹیکسٹائل (کپڑا) صنعت پر شدید اثرات

ماہرین کے مطابق، سب سے زیادہ اثر بھارت کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر پڑنے والا ہے۔

اب تک امریکہ بھارتی کپڑوں پر صرف 9فیصد ٹیرف عائد کرتا تھا،

اب یہ شرح بڑھ کر 59 فیصد ہو جائے گی۔

اسی طرح ریڈی میڈ کپڑوں پر ٹیرف 13.9 فیصد سے بڑھ کر 63.9فیصد ہو جائے گا۔

بھارت کی ٹیکسٹائل صنعت کو سب سے زیادہ روزگار دینے والا شعبہ مانا جاتا ہے، جس میں 4 کروڑ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔
تمل ناڈو کے تروپور، گجرات کے سورت، پنجاب کے لدھیانہ اور مہاراشٹر کے ممبئی، تھانے اور نوی ممبئی اس صنعت کے اہم مراکز ہیں۔

یہ ایک لیبر انٹینسو صنعت ہے، یعنی زیادہ تر مزدوروں پر انحصار کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے نفاذ کے بعد امریکی مارکیٹ میں بھارتی کپڑوں کی مانگ میں کمی آئے گی، جس کے باعث بھارت میں 5 سے 7 فیصد مزدور متاثر ہو سکتے ہیں۔

2 دھاتوں کی برآمدات پر اثر

بھارت امریکہ کو مختلف دھاتیں جیسے اسٹیل، ایلومینیم اور تانبہ (کاپر) برآمد کرتا ہے۔

ان پر پہلے 1.7 فیصد ٹیرف تھا،

اب ٹیرف بڑھ کر 51.7 فیصد ہو جائے گا۔

اس شعبے میں بھی 60 لاکھ سے زائد افراد کام کرتے ہیں، اس لیے یہ فیصلہ ان کے روزگار پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

جھینگوں کی برآمدات متاثر

پہلے بھارت سے برآمد ہونے والے جھینگوں (Shrimps) پر امریکہ میں کوئی ٹیرف نہیں تھا، لیکن اب 50 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی سمندری غذا کی صنعت پر شدید منفی اثر ڈال سکتا ہے، جو بڑی مقدار میں امریکہ کو جھینگے برآمد کرتی ہے۔

  1. زیورات اور قیمتی پتھروں کا شعبہ

پہلے زیورات اور قیمتی پتھروں پر 2.1 فیصد ٹیرف عائد تھا،

اب یہ بڑھ کر 52 فیصد ہو جائے گا۔

یہ شعبہ بھارت میں 50 لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ اس پر پڑنے والا بوجھ بھی ملکی معیشت پر اثرانداز ہوگا۔

کون سے شعبے محفوظ ہیں؟

امریکہ نے فی الحال دو اہم شعبوں کو ٹیرف سے استثنا دیا ہے:

ادویات (فارماسوٹیکل)

اسمارٹ فونز

تاہم، ٹرمپ حکومت نے یہ عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں ان پر بھی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

ٹیرف کا مجموعی اثر کیا ہوگا؟

امریکی مارکیٹ میں بھارتی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا، جس کا براہِ راست فائدہ چین، ویتنام، کمبوڈیا، فلپائن اور بنگلہ دیش جیسے ایشیائی ممالک کو ہو سکتا ہے۔
یہ ممالک کم لاگت پر تیار کردہ مصنوعات کے متبادل فراہم کر سکتے ہیں، جس سے بھارتی مصنوعات کی مانگ میں کمی آ سکتی ہے۔

فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (FIEO) نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق، امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے، اور بھارت اپنی کل برآمدات کا 18 فیصد امریکہ کو بھیجتا ہے۔ اس وجہ سے یہ فیصلہ بھارت کی معیشت پر سنگین اثرات ڈال سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read