امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایران اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروبار کریں گے، ان پر امریکہ کے ساتھ تجارت کے دوران 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
بھارت کے لیے کیا ہو سکتا ہے اس کا مطلب
بھارت کے لیے اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ کو برآمد ہونے والی بھارتی مصنوعات پر مجموعی طور پر 75 فیصد تک ٹیرف لگ سکتا ہے۔ اس سے بھارتی تاجروں اور صنعتوں پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ایران کے ساتھ تجارت کرنے پر 25 فیصد ٹیرف
ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، “فوری طور پر نافذ العمل، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والا کوئی بھی ملک امریکہ کے ساتھ ہونے والی کسی بھی اور تمام تجارت پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرے گا۔ یہ حکم حتمی اور فیصلہ کن ہے۔ اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے شکریہ!”
اضافی ٹیرف کن شعبوں پر لاگو ہوگا، واضح نہیں
حالانکہ، اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اضافی ٹیرف کن شعبوں پر اور کس طریقے سے لاگو ہوگا۔ اس سے قبل دن میں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکہ ایک طرف ایران کے ساتھ بات چیت کے راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف ضرورت پڑنے پر فوجی آپشن بھی تیار رکھے گا۔ ایران کے اندر جاری احتجاج اور پسِ پردہ ہونے والی بات چیت سے تہران کے مؤقف میں ممکنہ تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر کی اولین ترجیح تشدد کو روکنا ہے، ساتھ ہی ایران کے حکام کی جانب سے موصول ہونے والے نجی پیغامات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر نہیں چاہتے کہ تہران کی سڑکوں پر لوگوں کی جانیں جائیں، لیکن بدقسمتی سے فی الحال ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اب بھی ایران سے مکمل جوہری عدم پھیلاؤ (نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ) کا مطالبہ کر رہا ہے، تو انہوں نے کوئی واضح شرط نہیں بتائی، البتہ یہ ضرور کہا کہ صدر ضرورت پڑنے پر سخت اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ کی اولین ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی حکومت جو باتیں عوامی سطح پر کہہ رہی ہے، وہ ان نجی پیغامات سے مختلف ہیں جو امریکہ کو موصول ہو رہے ہیں، اور صدر ان پیغامات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہتے ہیں۔
لیویٹ نے کہا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف ایران سے متعلق سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “میری سمجھ کے مطابق اسٹیو وِٹکوف ایران کے ساتھ ڈپلومیسی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران بخوبی جانتا ہے کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی ضرورت پڑنے پر سخت فیصلے کر چکے ہیں اور آئندہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔
یہ تمام بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور امریکہ کی ایران پالیسی پر ایک بار پھر گہری نظر ڈالی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
