Bharat Express DD Free Dish

Sonia Gandhi

عدالت اس وقت ایک نظرثانی عرضی کی سماعت کر رہی ہے، جو مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے یہ اہم سوال اٹھایا تھا کہ اگر سونیا گاندھی 1983 میں شہری بنی تھیں تو 1980 میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو ہر معاملے کو ایک ”ایونٹ“ بنانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح کے حساس معاملات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت نے ابھی تک بل کا مسودہ پیش نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اپوزیشن سے تعاون مانگا جا رہا ہے، جو قابل اعتراض ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی ایک جذباتی پوسٹ بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ انہوں نے اسپتال میں گزری رات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، "گزشتہ رات میں اسپتال میں اپنی ماں کے کمرے میں ایک چھوٹے صوفے پر سو رہا تھا اور کسی بھی بیٹے کی طرح ان کی صحت کو لے کر بہت پریشان تھا۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ایک بیان جاری ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہندوستان کا سچا دوست ہے اورہندوستان کی خارجہ پالیسی روایتی طورپرایران کے ساتھ رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت سفارتی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔

سونیا گاندھی کے خلاف بھارتی شہریت حاصل کرنے سے پہلے ووٹر لسٹ میں نام درج کرنے کے معاملے میں دائر نظرثانی کی درخواست کی سماعت 13 مارچ کو راؤز اوینیو میں ہوگی۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھروراورپارٹی ہائی کمان کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ششی تھرور اہم میٹنگوں سے مسلسل غیر حاضر رہے ہیں۔ اس بار انہوں نے بجٹ سیشن بھی چھوڑ دیا۔ ان کی بے حسی نے سیاسی حلقوں میں متعدد قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے جوکہ کانگریس کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس نے اپنی تنظیمی تیاریوں میں تیزی لاتے ہوئے پرینکا گاندھی کو آسام کی اسکریننگ کمیٹی کا صدر مقرر کیا ہے۔

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے منریگا مسئلہ پر بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا، حکومت اس کے ذریعے قانونی ڈھانچہ کو تباہ کررہی ہے۔

ای ڈی کا الزام ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے ایک منظم سازش کے تحت ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کی تقریباً دو ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کے لیے اسے نجی کمپنی ینگ انڈین کے ذریعے محض پچاس لاکھ روپے میں حاصل کیا۔

دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے لیس تھے اور فرضی شناختی اسٹیکرز کی مدد سے سکیورٹی حصار توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ سی آر پی ایف کی کانسٹیبل کملیش کماری پہلی اہلکار تھیں جنہوں نے دہشت گردوں کو دیکھا اور خطرے کا الارم بجایا،