Bharat Express DD Free Dish

Sonia Gandhi

ای ڈی کا الزام ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈروں نے ایک منظم سازش کے تحت ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ کی تقریباً دو ہزار کروڑ روپے مالیت کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کے لیے اسے نجی کمپنی ینگ انڈین کے ذریعے محض پچاس لاکھ روپے میں حاصل کیا۔

دہشت گرد جدید ہتھیاروں سے لیس تھے اور فرضی شناختی اسٹیکرز کی مدد سے سکیورٹی حصار توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ سی آر پی ایف کی کانسٹیبل کملیش کماری پہلی اہلکار تھیں جنہوں نے دہشت گردوں کو دیکھا اور خطرے کا الارم بجایا،

دہلی کی راوز ایوینیو کورٹ نے سونیا گاندھی کے خلاف ووٹر لسٹ جعل سازی معاملے میں نوٹس جاری کیا ہے۔ بغیر ہندوستانی شہریت کے نام شامل کرانے کے الزامات پرعدالت میں 6 جنوری 2026 کو آئندہ سماعت ہوگی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کانگریس کی سینئر لیڈر اور سابق صدر سونیا گاندھی کو ان کی 79ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کی اور ان کی طویل عمر اور اچھی صحت کی دعا کی۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ سونیا گاندھی کی زندگی میں خوشحالی اور صحت کے استحکام کے خواہاں ہیں۔

کیرالہ کے مُنّار میں مقامی بلدیاتی انتخابات موضوعِ بحث بنا ہوا ہے کیونکہ بی جے پی نے نلّاتھنی وارڈ سے ’سونیا گاندھی‘ نام کی امیدوار میدان میں اتاری ہے۔ ان کے نام کے پیچھے کی دلچسپ کہانی اور انتخابی مقابلہ، آئیے جانتے ہیں۔

لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور زیرو آور میں بحث کا مطالبہ کیا گیا۔ ہنگامہ بڑھنے کے بعد اسپیکر نے کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اس معاملے نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان تناؤ مزید بڑھ چکا ہے۔ کانگریس نے ایف آئی آر کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے، جب کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کارروائی مکمل طور پر قانونی بنیادوں پر کی گئی ہے۔

کانگریس پارٹی ایک بار پھر شدید سیاسی بحران اور اندرونی بغاوت کا سامنا کر رہی ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں ملی کراری شکست کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات نہ صرف تیز ہو گئے ہیں بلکہ قیادت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس صورتحال نے کانگریس کی اعلیٰ کمان، خصوصاً گاندھی خاندان راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پارٹی کے اندر جاری اس بے چینی نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں 1969 کی تاریخی کانگریس بغاوت کی یاد تازہ کر دی ہے۔

جہاں ای ڈی اس کیس کو ایک سنگین اقتصادی جرم اور جائیداد پر قبضہ کرنے کی سازش قرار دے رہی ہے، وہیں کانگریس لیڈران ان الزامات کو ’بہت عجیب‘ بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ینگ انڈین قانونی طور پر قائم کی گئی کمپنی ہے اور اس میں کسی قسم کا ذاتی فائدہ شامل نہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ لین دین سے متعلق دستاویزات، مبینہ کرایے کی رسیدیں اور فنڈ فلو کے پورے سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر فیصلہ ممکن نہیں۔ عدالت کے مطابق یہ جانچ ضروری تھی تاکہ دیکھا جاسکے کہ ای ڈی کی شکایت PMLA کے تحت قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔