Bharat Express DD Free Dish

Sonia Gandhi

پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 21 جولائی سے 21 اگست تک چلے گا۔ جو پہلے سے طے وقت سے ایک ہفتے زیادہ ہے۔ پہلے یہ سیشن 12 اگست کو ختم ہونا تھا۔ مگر، اسے ایک ہفتے کے لئے بڑھایا گیا ہے۔

یہ اجلاس سیاسی طور پر اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ اپوزیشن کی جانب سے کئی قومی اور بین الاقوامی امور پر شدید بحث ومباحثے کی توقع ہے جن میں آپریشن سندور، مہنگائی، روزگار اور مرکز کی پالیسیاں شامل ہیں۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی تباہی پر ہندوستان کی خاموشی اور اب ایران کے خلاف کشیدگی میں بلا اشتعال اضافہ ہماری اخلاقی اور سفارتی روایات سے انحراف ہے۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔

کانگریس کی سابق صدرسونیا گاندھی کواتواررات اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کرا رہی ہے۔ اب اسپتال نے سونیا گاندھی کی طبیعت سے متعلق ہیلتھ بلیٹن جاری کیا ہے۔

یہ پورا تنازعہ ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) سے جڑا ہوا ہے جو کہ اب بند ہو چکے نیشنل ہیرالڈ اخبار شائع کرنے والی کمپنی ہے۔

کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کہا، "میں جموں و کشمیر کے پہلگام علاقے میں بے قصور  سیاحوں پر وحشیانہ دہشت گردانہ حملے کے بارے میں جان کر بہت غمگین اور غم زدہ  ہوں۔

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مسٹر دیویندر یادو، اے آئی سی سی دہلی کے انچارج قاضی نظام الدین، دہلی کے سابق وزیر ڈاکٹر نریندر ناتھ، سابق ایم ایل اے اور کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین مسٹر انل بھاردواج اور ڈاکٹر پی کے مشرا بھی اس پریس کانفرنس میں موجود تھے۔

اکھلیش یادو نے بدھ کو اٹاوہ میں چمبل کی گھاٹیوں میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی کانکنی اور ماحولیاتی تباہی کا الزام لگایا۔ انہوں نے اتر پردیش حکومت کے افسران پر تمام پہاڑیوں کو غائب کرنے میں مدد کرنے کا الزام لگایا۔

بی جے پی نے کانگریس کے اس احتجاج کو "سیاسی ڈرامہ" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ ای ڈی ایک آزاد ادارہ ہے اور وہ قانون کے مطابق اپنا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے احتجاج کا سہارا لے رہی ہے۔

کانگریس نے منگل کو نیشنل ہیرالڈ کیس میں کانگریس لیڈران سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تازہ چارج شیٹ کو ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر اپوزیشن کو ’’دھمکانے‘‘ کا الزام لگایا ہے۔