Bharat Express DD Free Dish

Sonia Gandhi

چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ کو کانگریس نے اندرا گاندھی امن انعام سے نوازا ہے۔ اب اسے لے کر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ آئیے جانیں آخر ایسا کیوں؟

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بہار کے دربھنگہ میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”لالو-رابڑی اپنے بیٹے کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتے ہیں اور سونیا گاندھی اپنے بیٹے کو وزیراعظم بنانا چاہتی ہیں۔ میں دونوں کو کہنا چاہتا ہوں ، نہ لالو-رابڑی کا بیٹا وزیراعلیٰ بنے گا اور نہ سونیا گاندھی کا بیٹا وزیراعظم بنے گا“۔

کانگریس کو امید ہے کہ ان لیڈران کی موجودگی اور عوامی رابطہ مہم پارٹی کو دوسرے مرحلے میں مضبوطی فراہم کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ بہار میں اسمبلی انتخاب 2025 کے دوسرے مرحلے کے لیے 11 نومبر کو ووٹنگ ہوگی اور 14 نومبر کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ اسی کے ساتھ انتخابی نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

بھارت کی سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی برسی کے موقع پر کانگریس رہنماؤں راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعہ کے روز دہلی کے ’شکتی ستھل‘ پر انہیں عقیدت کے پھول نذر کیے۔ اس موقع پر ملک کی سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی اندرا گاندھی کو یاد کیا، جنہوں نے قوم کی یکجہتی اور خودمختاری کے لیے اپنی جان قربان کی۔

شکایت کے مطابق، سونیا گاندھی جو پیدائش کے لحاظ سے اطالوی شہری تھیں، 30 اپریل 1983 کو قانون شہریت کی دفعہ 5 کے تحت بھارتی شہری بنیں۔ تاہم، ان کا نام 1981-82 میں ہی نئی دہلی پارلیمانی حلقے کی ووٹر فہرست میں شامل تھا، جس سے اس وقت الیکشن کمیشن کو دی گئی دستاویزات پر سوال اٹھتے ہیں۔

نامزدگی سے قبل، یعنی بدھ کو ‘انڈیا اتحاد’ کے رہنماؤں نے بی. سدرشن ریڈی کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی۔ یہ تقریب پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے سنٹرل ہال میں ہوئی، جہاں ریڈی کو باقاعدہ خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان کی امیدواری کو ایک تاریخی اور اہم قدم قرار دیا۔

انھوں نے بابا صاحب امبیڈکر کے اس انتباہ کو بھی یاد دلایا کہ اگر سماجی اور اقتصادی انصاف نہ ہو تو سیاسی جمہوریت صرف دکھاوے کی جمہوریت ہوگی۔

سونیا گاندھی نے وزیر اعظم سے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خاموشی توڑیں اور ہندوستان کی تاریخی وراثت کے مطابق انصاف اور انسانیت کی آواز بنیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عالمی برادری سکتے میں ہے تو گلوبل ساؤتھ کو ہندوستان کی قیادت کی اشد ضرورت ہے۔

پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 21 جولائی سے 21 اگست تک چلے گا۔ جو پہلے سے طے وقت سے ایک ہفتے زیادہ ہے۔ پہلے یہ سیشن 12 اگست کو ختم ہونا تھا۔ مگر، اسے ایک ہفتے کے لئے بڑھایا گیا ہے۔

یہ اجلاس سیاسی طور پر اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ اپوزیشن کی جانب سے کئی قومی اور بین الاقوامی امور پر شدید بحث ومباحثے کی توقع ہے جن میں آپریشن سندور، مہنگائی، روزگار اور مرکز کی پالیسیاں شامل ہیں۔