Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ممتا بنرجی بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے تقریباً 20 دن بعد فیس بک لائیو کے ذریعے عوام سے براہ راست خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کیا اور ترنمول کانگریس کے ہزاروں کارکنان کو نشانہ بنایا گیا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق انتخابی عمل یکم جون سے شروع ہوگا۔ اسی دن سے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر سکیں گے۔ نامزدگی فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون مقرر کی گئی ہے، جبکہ 9 جون کو کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ امیدوار 11 جون تک اپنے نام واپس لے سکیں گے۔

درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی کہ اروند کیجریوال اور دیگر عدالتی کارروائی کو بدنام کرنے اور متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا حکم دیں؟ لیکن کیا سیاسی جماعت کی رجسٹریشن ختم کرنے کی قانون میں کوئی شق موجود ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا مکمل قانونی ڈھانچہ کیا ہے؟

ملک کی 16 ریاستوں اور 3 مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹ کی جانچ، تصدیق اور اپڈیٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس مہم کا مقصد انتخابی فہرستوں کو مزید شفاف، درست اور جامع بنانا ہے تاکہ ہر اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درست طور پر شامل ہو سکے۔

منوج اگروال مغربی بنگال کیڈر کے 1990 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ بنگال کے چیف  الیکٹورل آفیسر کے طورپرانہیں کی نگرانی میں بنگال اسمبلی انتخابات کرائے گئے۔

مغربی بنگال میں شوبھندو ادھیکاری نے ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے اپنا کام شروع کردیا۔ پہلی انتظامی تقرری میں، انہوں نے ایک متنازعہ افسرکو سی ایم دفتربلا لیا، جس کی ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی مسلسل مخالفت کرتی رہی ہیں۔

کپل سبل نے الزام لگایا کہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹر نام غلط طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ بی جے پی نے اسی طرح جیت حاصل کی!‘‘

جماعت اسلامی ہند نے مغربی بنگال میں انتخابی عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں، کمزور طبقات کوحق رائے دہی سے محروم کئے جانے اورسرکاری مشینری کے غلط استعمال کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیزبیانیے نے سماج کے جمہوری ماحول کوخراب کیا اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔

نیشنل کانفرنس کے کچھ اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑنے کی قیاس آرائیوں پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا، "اگرکچھ اراکین اسمبلی چھوڑ کرجانے کی تیاری کررہے تھے توکیا میں یہاں تقریب میں بیٹھا ہوتا؟ یہ بے بنیاد باتیں ہیں، یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے ان کی ہدایت کے مطابق راجیہ سبھا میں بی جے پی کی مدد کی، ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ جس طرح کا ماحول بنایا گیا، وہ شفاف جمہوری عمل نہیں تھا۔ ان کے مطابق ”ہم شکست تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ جو کچھ ہوا وہ عوامی فیصلے کی عکاسی نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے“۔