Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے بارے میں سنگین الزامات لگائے ہیں، جن میں 100 سیٹوں پر ووٹوں میں دھاندلی اورای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ شامل ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر شدید تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’’جمہوریت کا قتل‘‘ قراردیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی لڑائی صرف بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے۔ انہوں نے مستقبل کی حکمت عملی کے لئے فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔

مغربی بنگال میں الیکشن کے نتائج کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اس دوران ٹی ایم سی نے الیکشن کمیشن پر بڑا الزام لگایا ہے۔ ممتا بنرجی خود اور ان کی پارٹی نے الیکشن کمیشن پر جان بوجھ کر جانکاری نہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو صبح 7 بجے شروع ہوگی۔ 126 سیٹوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہو جائے گا۔

عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں کوئی نیا حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ محض الیکشن کمیشن آف انڈیاکے وکیل کی جانب سے دیے گئے بیان کو ریکارڈ پر لے رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 13 اپریل کے سرکلر پر عمل درآمد کیا جائے گا،

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ووٹوں کی گنتی کے آبزرور (مبصر) تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ ڈی ای او کا نوٹس تاخیر سے موصول ہوا اور ہر بوتھ پربے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو افسریا اہلکار منتخب کرنے کا اختیار ہے۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے ای وی ایم کے اسٹرونگ روم پر زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ممتا بنرجی نے رات کے اندھیرے میں اسٹرونگ روم کا دورہ کیا اور الزام لگایا کہ ’’ای وی ایم لوٹنے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘‘ ٹی ایم سی کے دھرنے اور بی جے پی کے سخت جوابی حملے نے 4 مئی کے نتائج سے پہلے بنگال کی سیاسی گرمی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔

مغربی بنگال میں الیکشن کے بعد ای وی ایم کواسٹرانگ روم میں رکھا گیا ہے۔ ٹی ایم سی لیڈران نے الزام لگایا ہے کہ کولکاتا کے لیڈران انڈوراسٹیڈیم کے اسٹرانگ روم میں ای وی ایم کے ساتھ گڑبڑی کی کوشش کی جارہی ہے۔ کنال گھوش اورششی پانجا جیسے لیڈر دھرنا دے رہے ہیں۔

بی جے پی رہنما نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ممتابنرجی اور ان کی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جمہوری عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرز کے طریقوں کے ذریعے ماضی میں انتخابی فائدہ حاصل کیا گیا۔

اتر پردیش کیڈر کے آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کے خلاف سنگین الزامات کے تحت شکایت درج کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی 24 پرگنہ کے فالٹا علاقے میں رات کے وقت گھروں میں داخل ہو کر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور مقامی افراد کو دھمکایا۔

تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔