Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

مغربی بنگال میں الیکشن کے بعد ای وی ایم کواسٹرانگ روم میں رکھا گیا ہے۔ ٹی ایم سی لیڈران نے الزام لگایا ہے کہ کولکاتا کے لیڈران انڈوراسٹیڈیم کے اسٹرانگ روم میں ای وی ایم کے ساتھ گڑبڑی کی کوشش کی جارہی ہے۔ کنال گھوش اورششی پانجا جیسے لیڈر دھرنا دے رہے ہیں۔

بی جے پی رہنما نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ممتابنرجی اور ان کی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جمہوری عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرز کے طریقوں کے ذریعے ماضی میں انتخابی فائدہ حاصل کیا گیا۔

اتر پردیش کیڈر کے آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کے خلاف سنگین الزامات کے تحت شکایت درج کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی 24 پرگنہ کے فالٹا علاقے میں رات کے وقت گھروں میں داخل ہو کر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور مقامی افراد کو دھمکایا۔

تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے آبزرور کے نام پر اپنے ”ایجنٹ“ بھیجے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان سے کچھ ہونے والا نہیں، دیدی ہیں اور دیدی ہی رہیں گی“، جس سے ان کا اشارہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ایسے افسران کے کردار کی مکمل جانچ ہوگی اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم نریندرمودی کے بارے میں ملیکارجن کھڑگے کے"دہشت گرد" والے ریمارک نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے معاملے کوسنجیدگی سے لیا ہے اور ملیکا ارجن کھڑگے کونوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندرجواب طلب کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس بار مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مجموعی طور پر 2,926 امیدوار میدان میں ہیں۔ پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر 1,478 امیدوار مقابلہ کریں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر 1,448 امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ پولنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔

پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لکھے گئے خط میں الزام لگایا کہ ریٹرننگ آفیسر پورنیما دے نے 10 اپریل کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے کانٹریکٹ ملازمین کو سیکٹر اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ سیکٹر آفیسر کے طور پر تعینات کیا۔

ایس آئی آر کی یہ مہم مجموعی طور پر 166 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران ووٹر لسٹ کی ہر سطح پر جانچ کی گئی۔ جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں 7 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار 61 مرد ووٹرز اور 6 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 5 سو 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔