Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ملک کے انتخابی نظام میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، اور اس عہدے کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے سخت آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پارلیمانی قواعد کے مطابق ایسی کسی بھی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے چیئرمین کی منظوری لازمی ہوتی ہے، اور اسی مرحلے پر اس نوٹس کو روک دیا گیا ہے۔

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ جہاں ایک طرف 60 لاکھ سے زائد حقیقی ووٹرز کی درخواستیں زیر التوا ہیں اور غلط عمل کے باعث 200 سے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں، وہیں الیکشن کمیشن مشتبہ طور پر بڑی تعداد میں جعلی درخواستوں کو تیزی سے نمٹا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بھی خلاف ہے اور مغربی بنگال میں آزاد و منصفانہ انتخابات پر براہِ راست حملہ ہے۔

ترنمول کانگریس کے آل انڈیا جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے مطابق انتخابات کے اعلان کے فوراً بعد الیکشن کمیشن نے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کیں، جن میں چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی، اے ڈی جی، آئی جی، ایس پی، ڈی ایم، کولکتہ پولیس کمشنر اور یہاں تک کہ کے ایم سی کمشنر کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی مداخلت سے نیت اور وقت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

آسام کی 126 نشستوں والی اسمبلی کے لیے حکمراں بی جے پی اتحاد اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ کانگریس اقتدار میں واپسی کے لیے میدان میں ہے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے اتحاد نے 75 نشستیں جیتی تھیں، جن میں بی جے پی کو اکیلے 60 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔

فروری کو جاری کی گئی حتمی ووٹر لسٹ میں تقریباً 60 لاکھ مشتبہ نام پہلے ہی ہٹا دیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے بعد اب مرحلہ وار ضمنی فہرستیں جاری کی جا رہی ہیں۔

مغربی بنگال میں الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کافی سرگرم ہے۔ منصفانہ الیکشن کو یقینی بنانے کے لئے کمیشن نے چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری کے بعد 4 سینئر پولیس افسران کا تبادلہ کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کل اپنی پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مغربی بنگال میں الیکشن پُرامن ہوں گے۔

میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات آٹھ مراحل میں ہوئے تھے۔ یہ انتخابات اس لیے طویل تھے کیونکہ ریاست میں 294 نشستیں ہیں اور سکیورٹی، قانون و نظم، اور بڑے ووٹر بیس کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی کمیشن نے انہیں آٹھ مراحل میں کرایا تھا۔

اتر پردیش میں 2026 میں ہونے والے پنچایتی انتخابات کواگلے سال تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ اس سے متعلق جن وجوہات کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ بیک ورڈ کمیشن کی تشکیل نہ ہونا اور ریزرویشن عمل نامکمل ہونا ہے۔ اب اس سے امیدواروں کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ جب ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور پوری ووٹر لسٹ کی ریویژن ہو گئی ہے تو پھر فارم 7 لینے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹر لسٹ پہلے ہی درست کی جا چکی ہے تو ووٹ کاٹنے کے لیے الگ سے فارم 7 کیوں استعمال کیا جا رہا ہے۔

 ملک کی کئی ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق پیدا ہوئی متنازعہ صورتحال کے درمیان مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ میں وکیل بن کرمداخلت کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ سپریم کورٹ کی بینچ نے انہیں زبردست جھٹکا دیا۔