Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے آبزرور کے نام پر اپنے ”ایجنٹ“ بھیجے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان سے کچھ ہونے والا نہیں، دیدی ہیں اور دیدی ہی رہیں گی“، جس سے ان کا اشارہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ایسے افسران کے کردار کی مکمل جانچ ہوگی اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم نریندرمودی کے بارے میں ملیکارجن کھڑگے کے"دہشت گرد" والے ریمارک نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے معاملے کوسنجیدگی سے لیا ہے اور ملیکا ارجن کھڑگے کونوٹس جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندرجواب طلب کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس بار مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مجموعی طور پر 2,926 امیدوار میدان میں ہیں۔ پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر 1,478 امیدوار مقابلہ کریں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر 1,448 امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ پولنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔

پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لکھے گئے خط میں الزام لگایا کہ ریٹرننگ آفیسر پورنیما دے نے 10 اپریل کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے کانٹریکٹ ملازمین کو سیکٹر اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ سیکٹر آفیسر کے طور پر تعینات کیا۔

ایس آئی آر کی یہ مہم مجموعی طور پر 166 دنوں تک جاری رہی، جس کے دوران ووٹر لسٹ کی ہر سطح پر جانچ کی گئی۔ جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق ریاست میں 7 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار 61 مرد ووٹرز اور 6 کروڑ 9 لاکھ 9 ہزار 5 سو 25 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

بھارت کی انتخابی تاریخ میں پہلی باربامبے ہائی کورٹ نے ممبئی کے چاندیولی اسمبلی حلقے میں ای وی ایم-وی وی پی اے ٹی مشینوں کے معائنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ کانگریس لیڈر نسیم خان کی طرف سے دائردرخواست پرآیا، جس نے ای وی ایم سے چھیڑچھاڑکا الزام لگایا تھا۔ ان مشینوں کی تکنیکی جانچ 17-16 اپریل کوہوگی، یہ اقدام شفافیت اورانتخابی سالمیت کی جانب ایک اہم اورتاریخی قدم سمجھا جاتا ہے۔

تینوں خطوں میں ووٹنگ کے بعد اب سب کی نظریں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نئی حکومتوں کی تصویر واضح ہو جائے گی۔ یہ انتخابات نہ صرف علاقائی سیاست کے لیے اہم ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ان کے نتائج آنے والے سیاسی رجحانات کی سمت طے کر سکتے ہیں۔

کیرلا اسمبلی الیکشن میں اس بارمقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ ریاست میں کل 883 امیدوارمیدان میں ہیں، یعنی ہرسیٹ پراوسطاً 6 سے 7 امیدواراپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ الیکشن میں مقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ حالانکہ کئی سیٹوں پرصورتحال کافی مشکل ہوگئی ہے۔ کیونکہ باغی اورآزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے کئی انتخابی حلقوں میں مقابلہ کافی سخت ہوگیا ہے۔

تینوں ریاستوں میں ووٹنگ کے دوران ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، انتخابی مہم پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور شراب کی فروخت بھی بند کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سکیورٹی اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں گے، جس کے بعد نتائج ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔