Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

بھارت کی انتخابی تاریخ میں پہلی باربامبے ہائی کورٹ نے ممبئی کے چاندیولی اسمبلی حلقے میں ای وی ایم-وی وی پی اے ٹی مشینوں کے معائنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ کانگریس لیڈر نسیم خان کی طرف سے دائردرخواست پرآیا، جس نے ای وی ایم سے چھیڑچھاڑکا الزام لگایا تھا۔ ان مشینوں کی تکنیکی جانچ 17-16 اپریل کوہوگی، یہ اقدام شفافیت اورانتخابی سالمیت کی جانب ایک اہم اورتاریخی قدم سمجھا جاتا ہے۔

تینوں خطوں میں ووٹنگ کے بعد اب سب کی نظریں 4 مئی پر مرکوز ہیں، جب ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نئی حکومتوں کی تصویر واضح ہو جائے گی۔ یہ انتخابات نہ صرف علاقائی سیاست کے لیے اہم ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی ان کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ ان کے نتائج آنے والے سیاسی رجحانات کی سمت طے کر سکتے ہیں۔

کیرلا اسمبلی الیکشن میں اس بارمقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ ریاست میں کل 883 امیدوارمیدان میں ہیں، یعنی ہرسیٹ پراوسطاً 6 سے 7 امیدواراپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ الیکشن میں مقابلہ کافی دلچسپ ہوگیا ہے۔ حالانکہ کئی سیٹوں پرصورتحال کافی مشکل ہوگئی ہے۔ کیونکہ باغی اورآزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے کئی انتخابی حلقوں میں مقابلہ کافی سخت ہوگیا ہے۔

تینوں ریاستوں میں ووٹنگ کے دوران ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، انتخابی مہم پر پابندی عائد ہو چکی ہے اور شراب کی فروخت بھی بند کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر سکیورٹی اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے شفاف انتخابات یقینی بنائے جائیں گے، جس کے بعد نتائج ملک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ملک کے انتخابی نظام میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، اور اس عہدے کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے سخت آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پارلیمانی قواعد کے مطابق ایسی کسی بھی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے چیئرمین کی منظوری لازمی ہوتی ہے، اور اسی مرحلے پر اس نوٹس کو روک دیا گیا ہے۔

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ جہاں ایک طرف 60 لاکھ سے زائد حقیقی ووٹرز کی درخواستیں زیر التوا ہیں اور غلط عمل کے باعث 200 سے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں، وہیں الیکشن کمیشن مشتبہ طور پر بڑی تعداد میں جعلی درخواستوں کو تیزی سے نمٹا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بھی خلاف ہے اور مغربی بنگال میں آزاد و منصفانہ انتخابات پر براہِ راست حملہ ہے۔

ترنمول کانگریس کے آل انڈیا جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کے مطابق انتخابات کے اعلان کے فوراً بعد الیکشن کمیشن نے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کیں، جن میں چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی، اے ڈی جی، آئی جی، ایس پی، ڈی ایم، کولکتہ پولیس کمشنر اور یہاں تک کہ کے ایم سی کمشنر کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس غیر معمولی مداخلت سے نیت اور وقت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

آسام کی 126 نشستوں والی اسمبلی کے لیے حکمراں بی جے پی اتحاد اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ کانگریس اقتدار میں واپسی کے لیے میدان میں ہے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے اتحاد نے 75 نشستیں جیتی تھیں، جن میں بی جے پی کو اکیلے 60 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔

فروری کو جاری کی گئی حتمی ووٹر لسٹ میں تقریباً 60 لاکھ مشتبہ نام پہلے ہی ہٹا دیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے بعد اب مرحلہ وار ضمنی فہرستیں جاری کی جا رہی ہیں۔

مغربی بنگال میں الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے بعد الیکشن کمیشن کافی سرگرم ہے۔ منصفانہ الیکشن کو یقینی بنانے کے لئے کمیشن نے چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری کے بعد 4 سینئر پولیس افسران کا تبادلہ کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے کل اپنی پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ مغربی بنگال میں الیکشن پُرامن ہوں گے۔