مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوبی 24 پرگنہ میں پولیس آبزرور کے طور پر اجے پال شرما کی تقرری پر سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس فیصلے پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس بار مرکزی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ بعض سینئر پولیس افسران کو بھی آبزرور کے طور پر تعینات کیا ہے۔ اسی سلسلے میں اتر پردیش کی پولیس میں ”انکاؤنٹر اسپیشلسٹ“ کے طور پر پہچانے جانے والے اجے پال شرما کو جنوبی 24 پرگنہ میں پولیس آبزرور مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے پیش نظر انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔
اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے آبزرور کے نام پر اپنے ”ایجنٹ“ بھیجے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان سے کچھ ہونے والا نہیں، دیدی ہیں اور دیدی ہی رہیں گی“، جس سے ان کا اشارہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ایسے افسران کے کردار کی مکمل جانچ ہوگی اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ اکھلیش یادو نے اپنے بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایسے افسران دراصل “ایجنڈوں کے ایجنٹ” ہیں اور انہیں کسی صورت بچنے نہیں دیا جائے گا۔ ان کے مطابق جمہوریت کے خلاف کام کرنے والوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں جواب دہ بنایا جائے گا۔
प. बंगाल में भाजपा ने ऑब्जवर के नाम पर रामपुर व संभल में टेस्ट किये हुए अपने एजेंट भेजे हैं लेकिन इनसे कुछ होने वाला नहीं। दीदी हैं, दीदी रहेंगी!
सही समय आने पर भाजपा और उनके संगी-साथियों के इन जैसे ‘एजेंडों के एजेंटों’ की सारी आपराधिक करतूतों की गहरी जाँच होगी और बेहद सख़्त… pic.twitter.com/MlQuCiSn3p
— Akhilesh Yadav (@yadavakhilesh) April 27, 2026
دوسری جانب ترنمول کانگریس نے بھی اجے پال شرما کی تقرری پر سخت اعتراض کیا ہے۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ایسے افسر کو، جس کا ماضی متنازعہ رہا ہے، حساس انتخابی علاقے میں آبزرور مقرر کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ٹی ایم سی کے مطابق اجے پال شرما کو اتر پردیش میں ”سنگھم“ کے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ اپنی سخت کارروائیوں اور متنازعہ انکاؤنٹرز کے لیے مشہور رہے ہیں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ ان کے کئی انکاؤنٹرز کو متنازعہ اور مشتبہ قرار دیا گیا تھا اور ان پر حکومت کو خوش کرنے کے لیے کارروائیاں کرنے کے الزامات بھی عائد ہوئے۔ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ ایسے افسر کی تقرری سے انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اجے پال شرما اس سے قبل بھی مختلف تنازعات میں گھرے رہے ہیں۔ سنہ 2020 میں انہیں رام پور سے منتقل کر کے اناؤ کے پولیس ٹریننگ سینٹر بھیجا گیا تھا، جب ان کا نام ایک مبینہ کیش فار پوسٹنگ اسکینڈل میں سامنے آیا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی گئی تھی، جس نے بعض سفارشات پیش کی تھیں۔
مزید برآں، ان کے خلاف مجرمانہ بداعتمادی، شواہد مٹانے اور سازش جیسے الزامات میں کیس درج ہونے کی بھی اطلاعات رہی ہیں۔ ایک خاتون کی شکایت پر درج ایف آئی آر میں ذاتی نوعیت کے سنگین الزامات بھی شامل تھے، جس نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ ٹی ایم سی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایسے متنازعہ پس منظر رکھنے والے افسران کو الیکشن آبزرور بنایا جاتا ہے تو اس سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ایسے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رہ سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس تقرری نے پہلے ہی گرم انتخابی ماحول کو مزید تلخ بنا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن ان اعتراضات پر کیا موقف اختیار کرتا ہے اور آیا اس فیصلے میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
