Bharat Express DD Free Dish

SP chief Akhilesh

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی مجوزہ کابینہ توسیع پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریاستی حکومت نو برس کے دوران عوامی مسائل حل نہیں کرسکی تو اب آخری نو مہینوں میں نئے وزراء کیا کارنامہ انجام دیں گے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگائی اور عوامی استحصال کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔

مغربی بنگال کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے اور اس بار اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اس بحث میں کود پڑے ہیں۔ لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بنگال میں ہر طرح کی سیاسی چال کے باوجود ممتا بنرجی ہی دوبارہ اقتدار میں آئیں گی۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے آبزرور کے نام پر اپنے ”ایجنٹ“ بھیجے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان سے کچھ ہونے والا نہیں، دیدی ہیں اور دیدی ہی رہیں گی“، جس سے ان کا اشارہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ایسے افسران کے کردار کی مکمل جانچ ہوگی اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

اتر پردیش کے دادری میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت خود کو جرائم کے خلاف سخت ظاہر کرتی ہے، مگر حقیقت میں اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بی جے پی کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ڈرائی کلین شاپ کی طرح ہے، جہاں بدعنوان لوگ جاتے ہیں اور صاف ستھرے ہوکر باہر نکلتے ہیں۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن پر الزامات کو سیاسی سازش بتاتے ہوئے کہا کہ اکھلیش کا بیان ’’سازش کے تحت پیدا کیا گیا انتشار‘‘ ہے تاکہ عوام کو انتخابی عمل پراعتماد نہ رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ  مولانا مدنی کی جانب سے ’’ظلم کے خلاف جہاد‘‘ کا حوالہ دینا غیر ذمہ دارانہ ہے اور اس سے ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔