مغربی بنگال کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے اور اس بار اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اس بحث میں کود پڑے ہیں۔ لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بنگال میں ہر طرح کی سیاسی چال کے باوجود ممتا بنرجی ہی دوبارہ اقتدار میں آئیں گی۔ اکھلیش یادو نے اپنے بیان میں بی جے پی کو جھوٹ پھیلانے والی جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ کی پرت در پرت کہانیاں بناتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بی جے پی ”جھوٹ کی سون پاپڑی“ تیار کرتی ہے تاکہ لوگ اسے سچ سمجھ بیٹھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگال میں انتخابی عمل کے دوران جس طرح کے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں، وہ جمہوریت کے لیے تشویشناک ہیں۔
انہوں نے مغربی بنگال میں بعض بوتھوں پر دوبارہ ووٹنگ کے فیصلے کو بھی نشانہ بنایا اور اس پر سوالات اٹھائے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اگر اسمارٹ میٹر میں چوری ممکن ہے تو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) میں گڑبڑی کیوں نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور شفاف انتخابات کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے الیکشن کمیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک آئینی ادارہ ہے اور عوام کو اس سے غیر جانبدارانہ کردار کی توقع ہوتی ہے، لیکن عملی طور پر ایسا نظر نہیں آتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کے رامپور ضمنی انتخاب میں بھی اسی طرح کے حالات دیکھنے کو ملے تھے، جہاں مخصوص افسران کی تعیناتی پر سوال اٹھے تھے۔
اکھلیش یادو نے مزید الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے اتر پردیش میں انتخابی حکمت عملی کا ”ریہرسل“ کیا اور اب اسی ماڈل کو مغربی بنگال میں نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں پیرا ملٹری اور مرکزی فورسز کی ایک متوازی نظام قائم کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد انتخابی عمل پر اثر انداز ہونا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بی جے پی چاہے جتنی بھی تدبیریں اختیار کر لے، مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی ہی حکومت بنے گی۔ ان کے مطابق ممتا بنرجی نہ صرف اکیلے میدان میں ڈٹی ہوئی ہیں بلکہ وہی کامیابی بھی حاصل کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا اعتماد اب بھی ترنمول کانگریس کے ساتھ ہے اور یہی عنصر نتائج کا فیصلہ کرے گا۔
اکھلیش یادو نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ووٹرز پر اثر ڈالا جا سکے۔ انہوں نے ایک بار پھر ای وی ایم کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب دیگر تکنیکی نظاموں میں چھیڑ چھاڑ ممکن ہے تو ووٹنگ مشینوں میں شفافیت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اکھلیش یادو کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مغربی بنگال میں انتخابی نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے اور ہر پارٹی اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن لیڈروں کے بیانات سیاسی ماحول کو مزید گرم کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مغربی بنگال کا انتخابی معرکہ نہایت دلچسپ اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ایک طرف بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے تو دوسری جانب ترنمول کانگریس اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے پرعزم نظر آ رہی ہے۔ اب یہ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس کے حق میں ووٹ دیتے ہیں اور ریاست کی باگ ڈور کس کے سپرد کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


