Bharat Express DD Free Dish

BJP vs TMC 2026

مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی ) ایک گہرے بحران سے دوچار نظر آ رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کے قریبی اور بااعتماد رہنما کلیان بنرجی نے ابھشیک بنرجی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے تک کی وارننگ دے دی ہے، جس کے بعد پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

مغربی بنگال کی فالٹا اسمبلی سیٹ پر دوبارہ ووٹنگ کے بعد ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار دیبانگشو پانڈا نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے قریبی حریف سی پی آئی ایم امیدوار کو ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دے دی۔

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے “اباؤٹ“ سیکشن میں اب بھی انہیں ”فاؤنڈر چیئرپرسن آل انڈیا ترنمول کانگریس“ اور ”وزیر اعلیٰ، مغربی بنگال“ کے طور پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ ممتا بنرجی انتخابی نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق ہمایوں کبیر نے نودا میں ترنمول کانگریس کی امیدوار اور موجودہ رکن اسمبلی شاہینہ ممتاز کو 27 ہزار 943 ووٹوں سے شکست دی، جبکہ ریجی نگر میں انہوں نے عطاء الرحمن کو 58 ہزار 876 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔ اب ریجی نگر سیٹ خالی ہونے کے بعد وہاں جلد ضمنی انتخاب متوقع ہے، جس میں غلام نبی آزاد کی امیدواری سیاسی طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

مغربی بنگال کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے اور اس بار اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اس بحث میں کود پڑے ہیں۔ لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بنگال میں ہر طرح کی سیاسی چال کے باوجود ممتا بنرجی ہی دوبارہ اقتدار میں آئیں گی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کا بے صبری سے انتظار ختم ہونے کو ہے، جہاں پیر 4 مئی کی صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور دوپہر تک سیاسی منظرنامہ کافی حد تک واضح ہو جائے گا۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایک بار پھر ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس اقتدار برقرار رکھے گی یا بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی بار ریاست میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک دن قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے، جہاں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے مالدا ضلع میں ایک سنسنی خیز کارروائی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درجنوں مقامی لیڈروں کے خلاف شکنجہ کس دیا ہے۔

شائننگ انڈیا کے ایگزٹ پول کے مطابق ٹی ایم سی کو 294 میں سے تقریباً 159 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں، جو اسے واضح اکثریت کی جانب لے جاتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 128 سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جس سے مقابلہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے، مگر برتری ٹی ایم سی کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے۔