مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست اور ریاستی اسمبلی کی تحلیل کے باوجود ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اب تک خود کو ”وزیر اعلیٰ، مغربی بنگال“ لکھ رکھا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث تیز ہوگئی ہے کیونکہ ریاستی گورنر آر این روی اسمبلی تحلیل کرچکے ہیں اور بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری نئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرچکے ہیں۔ گورنر کی جانب سے 7 مئی کو اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد ممتا بنرجی کی قیادت والی کابینہ خود بخود ختم ہوگئی تھی، جس کے بعد وہ آئینی طور پر سابق وزیر اعلیٰ بن چکی ہیں۔ تاہم ممتا بنرجی نے نہ صرف اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور فیس بک پر بھی اپنی شناخت تبدیل نہیں کی۔
ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے “اباؤٹ“ سیکشن میں اب بھی انہیں ”فاؤنڈر چیئرپرسن آل انڈیا ترنمول کانگریس“ اور ”وزیر اعلیٰ، مغربی بنگال“ کے طور پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ ممتا بنرجی انتخابی نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کی تھی، جس کے بعد 15 سال سے قائم ترنمول کانگریس حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ بی جے پی نے سویندو ادھیکاری کو اپنے قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا ہے اور انہوں نے گورنر سے ملاقات کرکے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ ہفتہ کی صبح 11 بجے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔
انتخابی نتائج کے اگلے دن پانچ مئی کو منعقدہ پریس کانفرنس میں ممتا بنرجی نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ گورنر کو استعفیٰ پیش کرنے کی روایت پر عمل نہیں کریں گی کیونکہ ان کے مطابق سرکاری نتائج عوامی رائے کی حقیقی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ تقریباً 100 اسمبلی نشستوں پر ”ووٹوں کی لوٹ“ ہوئی ہے اور انتخابی عمل شفاف نہیں رہا۔ ممتا بنرجی نے اپنی ذاتی شکست کو بھی قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ بھوانی پور اسمبلی حلقے میں انہیں بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری نے 15 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی تھی۔ اس کے باوجود ممتا نے دعویٰ کیا کہ کئی نشستوں پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کیا گیا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بایو تبدیل نہ کرنا محض تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ممتا بنرجی اپنے حامیوں کو یہ اشارہ دینا چاہتی ہیں کہ وہ انتخابی نتائج کے خلاف اپنی سیاسی اور قانونی لڑائی جاری رکھیں گی۔ دوسری جانب بی جے پی لیڈروں نے ممتا بنرجی کے اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری نظام میں انتخابی نتائج کا احترام ضروری ہوتا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ عوام نے واضح مینڈیٹ دیا ہے اور اب نئی حکومت ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


