Bharat Express DD Free Dish

BJP TMC Clash

ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے “اباؤٹ“ سیکشن میں اب بھی انہیں ”فاؤنڈر چیئرپرسن آل انڈیا ترنمول کانگریس“ اور ”وزیر اعلیٰ، مغربی بنگال“ کے طور پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ ممتا بنرجی انتخابی نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق ہمایوں کبیر نے نودا میں ترنمول کانگریس کی امیدوار اور موجودہ رکن اسمبلی شاہینہ ممتاز کو 27 ہزار 943 ووٹوں سے شکست دی، جبکہ ریجی نگر میں انہوں نے عطاء الرحمن کو 58 ہزار 876 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔ اب ریجی نگر سیٹ خالی ہونے کے بعد وہاں جلد ضمنی انتخاب متوقع ہے، جس میں غلام نبی آزاد کی امیدواری سیاسی طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ کولکاتا کے بھوانی پور علاقے میں ٹی ایم سی اور بی جے پی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس سے کشیدگی بڑھ گئی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کا بے صبری سے انتظار ختم ہونے کو ہے، جہاں پیر 4 مئی کی صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور دوپہر تک سیاسی منظرنامہ کافی حد تک واضح ہو جائے گا۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایک بار پھر ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس اقتدار برقرار رکھے گی یا بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی بار ریاست میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک دن قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے، جہاں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے مالدا ضلع میں ایک سنسنی خیز کارروائی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درجنوں مقامی لیڈروں کے خلاف شکنجہ کس دیا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے بنگال میں اپنی انتخابی مہم کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست میں ایک منفرد توانائی اور جوش محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی اور مسلسل ریلیوں کے باوجود انہیں کسی قسم کی تھکن محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے بقول، یہ ریلیاں اور روڈ شوز ان کے لیے کسی مذہبی یاترا سے کم نہیں تھے، جہاں انہیں عوام کی محبت اور عقیدت نے مسلسل توانائی فراہم کی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے ہر شعبے میں ممتا بنرجی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عوام کے اندر موجودہ حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسائل اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت صرف بی جے پی کے پاس ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 15 برس قبل ٹی ایم سی ”ماں، ماٹی اور مانُش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن آج اس نعرے کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ان کی ناکامی اور بدعنوانی بے نقاب ہو جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ماں کو رونے پر مجبور کیا، ماٹی کو سنڈیکیٹ اور دراندازوں کے حوالے کر دیا اور مانُش کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹی ایم سی پر ”سنڈیکیٹ راج“ چلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پانچ تاریخ کو بی جے پی کی حکومت بنتے ہی ریاست بھر میں تمام سنڈیکیٹ نظام ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت قانون و نظم کو مضبوط بنائے گی اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔