Bharat Express DD Free Dish

SIR Affected Bengal Poll Results-TMC Tells SC: بنگال ایس آئی آر تنازعہ پھر سپریم کورٹ پہنچا، ٹی ایم سی کا دعویٰ- 31 سیٹوں پر جیت کا فرق حذف شدہ ووٹوں سے کم

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

نئی دہلی: مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) سے متعلق تنازعہ ایک بار پھر سپریم کورٹ میں گرما گیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے اسے انتخابی عرضی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے عدالت میں اعتراض درج کرایا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے پیر کو مغربی بنگال میں ایس آئی آر سے متعلق زیر سماعت مقدمے کی سماعت کے دوران یہ ہدایت جاری کی۔ عدالت میں ترنمول کانگریس کی جانب سے سینئر لیڈر کلیان بندیوپادھیائے نے مؤقف اختیار کیا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے اثرات کئی حلقوں کے نتائج پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بعض اسمبلی نشستوں پر امیدوار انتہائی کم فرق سے ہارے، جبکہ انہی حلقوں میں ہزاروں ووٹروں کے نام لسٹ سے خارج کیے گئے تھے۔

کلیان بندیوپادھیائے نے ایک حلقے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک امیدوار صرف 862 ووٹوں سے شکست کھا گیا، جبکہ اسی حلقے میں 5 ہزار 432 سے زیادہ ووٹروں کے نام رول سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان مجموعی ووٹوں کا فرق تقریباً 32 لاکھ تھا، جبکہ اپیلیٹ ٹریبونل کے سامنے تقریباً 35 لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ٹی ایم سی نے عدالت سے کہا کہ حذف شدہ ووٹوں کا معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ انتخابی نتائج پر براہ راست اثر انداز ہونے والا مسئلہ ہے، اس لیے اس کی عدالتی جانچ ضروری ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس جوئے مالیا باگچی نے کہا کہ اگر کسی حلقے میں جیت کا فرق حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد سے کم ہے تو اس پہلو کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ بنچ نے ٹی ایم سی کو ہدایت دی کہ وہ تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ ایک علیحدہ انٹرلوکیوٹری اپلیکیشن دائر کرے۔ جسٹس باگچی نے ریمارکس دیے کہ اگر پارٹی انتخابی نتائج پر ایس آئی آر کے اثرات سے متعلق کچھ کہنا چاہتی ہے تو اس کے لیے الگ درخواست دائر کرنا ضروری ہوگا۔

کلیان بندیوپادھیائے نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سابق چیف جسٹس ٹی ایس شیوگنم نے اپیلیٹ ٹریبونل کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے باعث اپیلوں کی سماعت مزید متاثر ہو رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ عدالت کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہوگی کہ اپیلوں پر جلد فیصلہ ہو۔ سماعت کے دوران سینئر وکیل مینکا گرو سوامی نے بنچ کو بتایا کہ موجودہ رفتار سے دیکھا جائے تو اپیلیٹ ٹریبونل کو تمام اپیلیں نمٹانے میں کم از کم چار سال لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل داما شیشادری نائیڈو نے کہا کہ اگر کسی امیدوار یا پارٹی کو انتخابی نتائج پر اعتراض ہے تو اس کا مناسب قانونی راستہ انتخابی عرضی دائر کرنا ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل کو براہ راست انتخابی نتائج سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ اس پر کلیان بندیوپادھیائے نے بنچ سے درخواست کی کہ عدالت ایک ایسا حکم جاری کرے جس میں واضح کیا جائے کہ ووٹروں کے نام حذف ہونا بھی انتخابی عرضی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے اس درخواست پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت اس مرحلے پر ایسا عمومی حکم کیسے جاری کر سکتی ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ اگر مناسب درخواست دائر کی جاتی ہے تو عدالت تمام اعتراضات اور جوابات کا جائزہ لے گی۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے داخل اعتراضات کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ زیر التوا اپیلوں کے نمٹارے کے لیے ایک واضح ٹائم لائن ضروری ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت ملتوی کر دی۔ ادھر سیاسی حلقوں میں اس مقدمے کو بنگال کی سیاست کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کا معاملہ ریاست میں پہلے ہی شدید سیاسی تنازعہ اختیار کر چکا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read