Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Results

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق ہمایوں کبیر نے نودا میں ترنمول کانگریس کی امیدوار اور موجودہ رکن اسمبلی شاہینہ ممتاز کو 27 ہزار 943 ووٹوں سے شکست دی، جبکہ ریجی نگر میں انہوں نے عطاء الرحمن کو 58 ہزار 876 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔ اب ریجی نگر سیٹ خالی ہونے کے بعد وہاں جلد ضمنی انتخاب متوقع ہے، جس میں غلام نبی آزاد کی امیدواری سیاسی طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔

بی جے پی کے سینئر رہنما اور اپوزیشن لیڈر سوویندو ادھیکاری نے پارٹی کی جیت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی 180 سے زائد نشستوں کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں ٹی ایم سی کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہیں رونے دیجئے، سب ختم ہو چکا ہے۔‘‘