Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly Elections Results

مغربی بنگال کی فالٹا اسمبلی سیٹ پر دوبارہ ووٹنگ کے بعد ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار دیبانگشو پانڈا نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے قریبی حریف سی پی آئی ایم امیدوار کو ایک لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دے دی۔

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ممتا بنرجی بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے تقریباً 20 دن بعد فیس بک لائیو کے ذریعے عوام سے براہ راست خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کیا اور ترنمول کانگریس کے ہزاروں کارکنان کو نشانہ بنایا گیا۔

مغربی بنگال میں بی جے پی مقننہ پارٹی کی اہم میٹنگ آج دوپہر 2 بجے کولکاتا میں ہوگی۔ مرکزی مبصرین امت شاہ اور موہن چرن ماجھی کی موجودگی میں بنگال کے نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔ 9 مئی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوگی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام آئینی بحران سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ نئی منتخب اسمبلی کی تشکیل اور حکومت سازی کا عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ آئینی دور بھی ختم ہو گیا ہے اور اب نئی حکومت کے حلف برداری کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی پیش قدمی قابل ذکر رہی ہے۔ منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں جہاں 2013 میں پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں تھا، اب وہاں بالترتیب 36، 2 اور 2 ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے اپنی موجودگی قائم کرتے ہوئے سات نشستیں حاصل کی ہیں، جو اس کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔

نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم مودی نے گنگا کے حوالے سے ایک علامتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ گنگا بہار سے آگے بڑھتے ہوئے گنگاساگر تک جاتی ہے اور آج بنگال کی جیت کے بعد گنگوتری سے لے کر گنگاساگر تک کمل ہی کمل کھل چکا ہے۔

ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔