کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زبردست کامیابی کے بعد پارٹی قیادت اور کارکنان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی سینئر لیڈر لاکٹ چٹرجی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی عوامی حمایت کا واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق مغربی بنگال کے عوام نے ترقی، شفاف طرز حکمرانی اور مضبوط قیادت کو ترجیح دیتے ہوئے بی جے پی کو تاریخی مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جیت صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ عوام کی امیدوں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔
لاکٹ چٹرجی نے انتخابات کے بعد بعض علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مقامات پر پارٹی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا، دفاتر پر حملے ہوئے اور توڑ پھوڑ و آتشزدگی کے واقعات سامنے آئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعات سیاسی انتقام کا حصہ ہیں اور ریاست میں امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی کے ریاستی صدر سمیک بھٹاچاریہ نے کہا کہ پارٹی نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اس بار مغربی بنگال میں حکومت بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے نام کا فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی اور جلد ہی نئی حکومت کی تشکیل کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے پھیلائی جانے والی بعض افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء پر پابندی جیسے دعوے بے بنیاد ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سمیک بھٹاچاریہ نے مزید کہا کہ دم دم، آسن سول اور راجار ہاٹ-گوپال پور جیسے علاقوں میں سیاسی کشیدگی دیکھی گئی ہے، جہاں مبینہ طور پر مختلف گروپوں کے درمیان تصادم ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر سیاسی فائدے کے لیے بی جے پی کے جھنڈے کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کسی بھی قسم کی تشدد کی سیاست کو قبول نہیں کرے گی اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی کے دیگر لیڈروں نے بھی اس کامیابی پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راہل سنہا نے کہا کہ حکومت کی تشکیل سے متعلق تمام فیصلے مرکزی قیادت کرے گی اور حلف برداری تقریب جلد منعقد ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عام طور پر انتخابی شکست کے بعد استعفیٰ دیا جاتا ہے، لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا۔
اسی طرح بی جے پی کے لیڈر مہیش شرما نے کہا کہ یہ انتخاب صرف مغربی بنگال تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے ملک کے لیے اہم تھا۔ ان کے مطابق عوام نے واضح طور پر تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور یہ نتیجہ مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی یہ جیت ریاست کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جس کے اثرات قومی سطح پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ پارٹی کی قیادت کو اب عوامی توقعات پر پورا اترنے کا چیلنج درپیش ہوگا، جبکہ اپوزیشن کے لیے یہ نتائج نئے سوالات اور حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
