Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Election Results

سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری ایک پوسٹ میں اشوک پنڈت نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی اور ان کے حامی مبینہ طور پر ”اینٹی انڈیا سلیپر سیل“ عناصر کے ساتھ مل کر سرگرم ہو گئے ہیں، جس کے باعث ریاست میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سویندو ادھیکاری 9 مئی کو رابندر جینتی کے موقع پر کولکاتا کے تاریخی بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب کو بی جے پی ایک بڑے سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق گورنر کا یہ اقدام آئینی بحران سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ نئی منتخب اسمبلی کی تشکیل اور حکومت سازی کا عمل بغیر رکاوٹ مکمل ہو سکے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کا بطور وزیر اعلیٰ آئینی دور بھی ختم ہو گیا ہے اور اب نئی حکومت کے حلف برداری کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق ہمایوں کبیر نے نودا میں ترنمول کانگریس کی امیدوار اور موجودہ رکن اسمبلی شاہینہ ممتاز کو 27 ہزار 943 ووٹوں سے شکست دی، جبکہ ریجی نگر میں انہوں نے عطاء الرحمن کو 58 ہزار 876 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔ اب ریجی نگر سیٹ خالی ہونے کے بعد وہاں جلد ضمنی انتخاب متوقع ہے، جس میں غلام نبی آزاد کی امیدواری سیاسی طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے۔

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ جس طرح کا ماحول بنایا گیا، وہ شفاف جمہوری عمل نہیں تھا۔ ان کے مطابق ”ہم شکست تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ جو کچھ ہوا وہ عوامی فیصلے کی عکاسی نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے“۔

راہل گاندھی نے کہا کہ آسام اور مغربی بنگال ایسے واضح مثالیں ہیں جہاں بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی مدد سے انتخابات جیتے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طریقے پہلے بھی مدھیہ پردیش، ہریانہ، مہاراشٹر اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دیکھے جا چکے ہیں۔

بی جے پی نے بنگال میں اپنی سیاسی زمین مضبوط کرنے کے لیے کافی پہلے سے تیاری شروع کر دی تھی۔ اسی سلسلے میں ’نریندر کپ‘ کے نام سے فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 1200 ٹیموں اور تقریباً 18,000 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ خواتین کے مقابلوں میں بھی 253 ٹیمیں شامل ہوئیں، جن میں 18 سے 25 سال کے نوجوان شریک تھے۔

انتخابی نتائج کے بعد ایک بار پھر بھوانی پور سیٹ ریاستی سیاست کا مرکز بن گئی ہے۔ ممتا بنرجی اسی حلقے سے رکن اسمبلی رہی ہیں اور یہ سیٹ طویل عرصے سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس حلقے میں دوسرے مرحلے کے تحت 29 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

مغربی بنگال میں بی جے پی کی برتری نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ChatGPT، Gemini اور Grok جیسے اے آئی ماڈلز بھی اس سیاسی تبدیلی کو مختلف زاویوں سے سمجھا رہے ہیں۔ کہیں اینٹی انکمبنسی کو وجہ بتایا جا رہا ہے تو کہیں بدعنوانی اور بے روزگاری کو۔ آخر اس بڑے سیاسی شفٹ کی اصل وجہ کیا ہے؟