Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly Elections 2026

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ممتا بنرجی بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے تقریباً 20 دن بعد فیس بک لائیو کے ذریعے عوام سے براہ راست خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے بلکہ الیکشن کمیشن اور مرکزی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی نے طاقت اور دباؤ کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کیا اور ترنمول کانگریس کے ہزاروں کارکنان کو نشانہ بنایا گیا۔

بنگال کی فالتا سیٹ پرووٹنگ کے دوران دھاندلی کے الزام لگے تھے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اس سیٹ پرووٹنگ کو منسوخ کردیا تھا اور ضمنی الیکشن کا اعلان کردیا تھا۔ فالتا میں 2 دن کے بعد ووٹنگ ہونی تھی۔

مغربی بنگال پہنچے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کو دیدی ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی نے ایک جنگجو کی طرح سے مقابلہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی سے اکھلیش یادو کی میٹنگ سیاسی لحاظ سے بے حد اہم مانی جا رہی ہے۔ کیونکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد اپوزیشن پارٹیاں اپنی حکمت عملی پر پھر سے غور کر رہی ہیں۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

مغربی بنگال میں پارٹی نے وزیرداخلہ امت شاہ کواسٹریٹجک ذمہ داری سونپی ہے، جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ کے انتخاب اورحکومت سازی کی سمت واضح ہوتی نظرآرہی ہے۔ وہیں آسام کی ذمہ داری سابق قومی صدرجے پی نڈا کو دی گئی ہے۔

مغربی بنگال، آسام سمیت ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چار مئی کی یہ شام ڈھل رہی ہے، لیکن بنگال کی سرزمین پر ایک نئی صبح کا آغاز ہو چکا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔

مغربی بنگال کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے اور اس بار اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اس بحث میں کود پڑے ہیں۔ لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بنگال میں ہر طرح کی سیاسی چال کے باوجود ممتا بنرجی ہی دوبارہ اقتدار میں آئیں گی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کا بے صبری سے انتظار ختم ہونے کو ہے، جہاں پیر 4 مئی کی صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور دوپہر تک سیاسی منظرنامہ کافی حد تک واضح ہو جائے گا۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایک بار پھر ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس اقتدار برقرار رکھے گی یا بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی بار ریاست میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گی۔