Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Assembly Elections 2026

شائننگ انڈیا کے ایگزٹ پول کے مطابق ٹی ایم سی کو 294 میں سے تقریباً 159 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں، جو اسے واضح اکثریت کی جانب لے جاتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 128 سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جس سے مقابلہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے، مگر برتری ٹی ایم سی کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے۔

ریاست میں ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، لیکن اس سے پہلے آج یعنی 29 اپریل کی شام جاری ہونے والے ایگزٹ پولز سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے والے ہیں۔ جیسے ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگا، پورے ملک کی نظریں ٹیلی ویژن اسکرینوں اور موبائل فونز پر مرکوز ہو جائیں گی۔ ہر کوئی یہ جاننے کے لیے بے تاب ہے کہ کیا ’سونار بنگلا‘ پر ممتا دیدی کا جادو برقرار رہے گا یا بی جے پی اپنی طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار کا خواب پورا کرے گی۔

اتر پردیش کیڈر کے آئی پی ایس افسر اجے پال شرما کے خلاف سنگین الزامات کے تحت شکایت درج کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی 24 پرگنہ کے فالٹا علاقے میں رات کے وقت گھروں میں داخل ہو کر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی اور مقامی افراد کو دھمکایا۔

تحقیقات کے دوران مشاہدین نے پایا کہ جن افراد کی شناخت یا حیثیت واضح نہیں ہو سکی، ان میں تقریباً 65 فیصد کا تعلق مسلم برادری سے تھا، جبکہ دلت ہندو، خاص طور پر متوا کمیونٹی کے افراد بھی بعض اضلاع میں نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اس پہلو نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے انتخابی مہم پیر کی شام 6 بجے اختتام پذیر ہو گئی، جس کے ساتھ ہی 48 گھنٹوں کا سائلنس پیریڈ نافذ ہو گیا ہے۔ اب 29 اپریل کو ریاست کی 142 اسمبلی نشستوں پر سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ ہوگی، جس میں لاکھوں ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے آبزرور کے نام پر اپنے ”ایجنٹ“ بھیجے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان سے کچھ ہونے والا نہیں، دیدی ہیں اور دیدی ہی رہیں گی“، جس سے ان کا اشارہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ایسے افسران کے کردار کی مکمل جانچ ہوگی اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

وزیر اعظم مودی نے بنگال میں اپنی انتخابی مہم کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست میں ایک منفرد توانائی اور جوش محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی اور مسلسل ریلیوں کے باوجود انہیں کسی قسم کی تھکن محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے بقول، یہ ریلیاں اور روڈ شوز ان کے لیے کسی مذہبی یاترا سے کم نہیں تھے، جہاں انہیں عوام کی محبت اور عقیدت نے مسلسل توانائی فراہم کی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے ہر شعبے میں ممتا بنرجی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عوام کے اندر موجودہ حکومت کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسائل اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے کی صلاحیت صرف بی جے پی کے پاس ہے۔

روڈ شو کے دوران مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، بشمول نوجوان، بزرگ اور خواتین، بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ کئی افراد وزیر اعظم کے کٹ آؤٹس اٹھائے ہوئے تھے جبکہ کچھ لوگ پھولوں کی مالائیں لے کر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اس موقع پر خواتین کی نمایاں شرکت نے سب کی توجہ حاصل کی، جن میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات بھی شامل تھیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تقریباً 15 برس قبل ٹی ایم سی ”ماں، ماٹی اور مانُش“ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن آج اس نعرے کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ان کی ناکامی اور بدعنوانی بے نقاب ہو جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی پالیسیوں نے ماں کو رونے پر مجبور کیا، ماٹی کو سنڈیکیٹ اور دراندازوں کے حوالے کر دیا اور مانُش کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔