Bharat Express DD Free Dish

Assembly Elections 2026: بنگال میں کس کی بنے گی حکومت؟ 2021 میں کیسا تھا ایگزٹ پول، آج شام جاری ہوں گے رجحان

ریاست میں ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، لیکن اس سے پہلے آج یعنی 29 اپریل کی شام جاری ہونے والے ایگزٹ پولز سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے والے ہیں۔ جیسے ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگا، پورے ملک کی نظریں ٹیلی ویژن اسکرینوں اور موبائل فونز پر مرکوز ہو جائیں گی۔ ہر کوئی یہ جاننے کے لیے بے تاب ہے کہ کیا ’سونار بنگلا‘ پر ممتا دیدی کا جادو برقرار رہے گا یا بی جے پی اپنی طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار کا خواب پورا کرے گی۔

کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور دوسرے و آخری مرحلے کی ووٹنگ کے اختتام کے ساتھ ہی ریاست کی سیاست میں سب سے بڑا سوال یہی ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ اس بار اقتدار کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ کیا ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس ایک بار پھر اپنی حکومت برقرار رکھے گی یا بھارتیہ جنتا پارٹی اس بار بنگال میں بڑا سیاسی الٹ پھیر کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ریاست میں ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، لیکن اس سے پہلے آج یعنی 29 اپریل کی شام جاری ہونے والے ایگزٹ پولز سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے والے ہیں۔ جیسے ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگا، پورے ملک کی نظریں ٹیلی ویژن اسکرینوں اور موبائل فونز پر مرکوز ہو جائیں گی۔ ہر کوئی یہ جاننے کے لیے بے تاب ہے کہ کیا ’سونار بنگلا‘ پر ممتا دیدی کا جادو برقرار رہے گا یا بی جے پی اپنی طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار کا خواب پورا کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ آسام، کیرلم، تمل ناڈو اور پڈوچیری کے انتخابات کے ممکنہ نتائج کی پیش گوئیاں بھی آج ہی سامنے آئیں گی۔

ایگزٹ پولز ہمیشہ سے ہی انتخابات کے دوران بحث کا مرکز رہے ہیں، لیکن مغربی بنگال جیسے پیچیدہ سیاسی ماحول والے صوبے میں ان کی ساکھ اکثر سوالوں کے گھیرے میں رہی ہے۔ خاص طور پر 2021 کے اسمبلی انتخابات اس کی ایک نمایاں مثال ہیں، جب تقریباً تمام بڑے سروے اندازوں میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی ایگزٹ پولز کے نتائج کو لے کر عوام اور سیاسی ماہرین میں خاصی دلچسپی پائی جا رہی ہے۔ اگر 2021 کے انتخابات پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت بیشتر سروے ایجنسیوں نے ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ دکھایا تھا۔ اے بی پی نیوز-سی ووٹر کے مطابق ٹی ایم سی کو 152 سے 164 نشستیں اور بی جے پی کو 109 سے 121 نشستیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اسی طرح انڈیا ٹوڈے اور ایکسس مائی انڈیا کے سروے میں تو بی جے پی کو 134 سے 160 نشستوں کے ساتھ برتری تک دے دی گئی تھی۔ کچھ دیگر سروے، جیسے ڈی بی لائیو، نے ٹی ایم سی کو 194 نشستیں دی تھیں۔ مختلف اندازوں کو یکجا کر کے بنائے گئے ’پول آف پولز‘ میں بھی ٹی ایم سی کو 156 اور بی جے پی کو 121 نشستوں تک محدود دکھایا گیا تھا۔

تاہم جب 2 مئی 2021 کو اصل نتائج سامنے آئے تو تمام اندازے حقیقت سے یکسر مختلف نکلے۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 215 نشستیں جیت کر بھاری اکثریت حاصل کی، جبکہ بی جے پی صرف 77 نشستوں تک محدود رہ گئی۔ اس غیر متوقع نتیجے نے نہ صرف سیاسی حلقوں کو حیران کیا بلکہ سروے ایجنسیوں کی کارکردگی اور ان کی ساکھ پر بھی بڑے سوالات کھڑے کر دیے۔ یہ سوال آج بھی اہم ہے کہ آخر مغربی بنگال میں ایگزٹ پولز بار بار کیوں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں کا ’سائلنٹ ووٹر‘ ہے۔ بنگال کے ووٹرز اکثر اپنی سیاسی ترجیحات کھل کر ظاہر نہیں کرتے، جس کی وجہ سے سروے کے نتائج حقیقت کی درست عکاسی نہیں کر پاتے۔ کئی بار لوگ سروے کے دوران اپنی اصل رائے چھپا لیتے ہیں یا مختلف وجوہات کی بنا پر صحیح معلومات فراہم نہیں کرتے، جس سے اندازوں میں بڑی غلطی ہو جاتی ہے۔

اس کے علاوہ مغربی بنگال کی سیاست کو ملک کے سب سے پیچیدہ سیاسی منظرناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں صرف پارٹی کی مقبولیت ہی نہیں بلکہ مقامی سطح کے مسائل، امیدوار کی شبیہ، ذات پات اور برادریوں کا اثر و رسوخ، اور علاقائی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک رجحان کی بنیاد پر پورے انتخابی نتائج کا درست اندازہ لگانا آسان نہیں ہوتا۔ ریاست میں سیاسی پولرائزیشن بھی ایک بڑا عنصر ہے، جو ووٹنگ کے پیٹرن کو متاثر کرتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران پیش آنے والے تشدد کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی، مقامی تنظیموں کی سرگرمیاں اور عوامی ناراضگی جیسے عوامل بھی نتائج کو غیر متوقع بنا سکتے ہیں۔ یہی پیچیدگیاں سروے ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوتی ہیں۔ 2026 کے انتخابات میں بھی کئی نئے عوامل سامنے آئے ہیں، جنہوں نے سیاسی مساوات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج کا تنازعہ ہو یا حالیہ حساس واقعات، ان سب نے ووٹرز کے رویے پر اثر ڈالا ہے۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا اس بار ایگزٹ پولز عوام کے اصل رجحان کو سمجھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ایک بار پھر حقیقت سے دور ثابت ہوتے ہیں۔

اس سال کے ایگزٹ پولز صرف سیاسی جماعتوں کی جیت یا ہار کا اندازہ نہیں لگائیں گے بلکہ یہ سروے ایجنسیوں کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہوں گے۔ 2021 کی ناکامی کے بعد اس بار ان کی حکمت عملی، ڈیٹا جمع کرنے کے طریقے اور تجزیاتی انداز پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگر اس بار بھی اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں تو ان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بہر حال، آج شام سے ابتدائی رجحانات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے، لیکن حتمی فیصلہ 4 مئی کو ہی ہوگا جب ووٹوں کی گنتی کے بعد عوام کا اصل مینڈیٹ سامنے آئے گا۔ تب ہی یہ واضح ہوگا کہ مغربی بنگال میں اقتدار کی کرسی پر کون براجمان ہوگا اور کس کے سیاسی خواب چکنا چور ہوں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read