Bharat Express DD Free Dish

CM Mamata banerjee

انتخابات ہارنے کے باوجود ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ریاست میں پیدا ہونے والے اس ’آئینی بحران‘ کے درمیان سپریم کورٹ کے سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے گورنر کو پولیس فورس بھیج کر انہیں عہدے سے ہٹانے کا جو قانونی راستہ تجویز کیا ہے، اس نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔

بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے ابتدائی رجحانات نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی دو اہم رہنما مہوا موئترا اور سیانی گھوش نے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم مجموعی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اکثریت کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے مقابلہ نہایت دلچسپ ہو گیا ہے۔

مغربی بنگال کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے اور اس بار اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اس بحث میں کود پڑے ہیں۔ لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بنگال میں ہر طرح کی سیاسی چال کے باوجود ممتا بنرجی ہی دوبارہ اقتدار میں آئیں گی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کا بے صبری سے انتظار ختم ہونے کو ہے، جہاں پیر 4 مئی کی صبح ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اور دوپہر تک سیاسی منظرنامہ کافی حد تک واضح ہو جائے گا۔ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ایک بار پھر ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس اقتدار برقرار رکھے گی یا بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی بار ریاست میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک دن قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا ہے، جہاں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے مالدا ضلع میں ایک سنسنی خیز کارروائی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درجنوں مقامی لیڈروں کے خلاف شکنجہ کس دیا ہے۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ووٹوں کی گنتی کے آبزرور (مبصر) تنازعہ سے متعلق سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ کپل سبل نے دلیل دی کہ ڈی ای او کا نوٹس تاخیر سے موصول ہوا اور ہر بوتھ پربے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو افسریا اہلکار منتخب کرنے کا اختیار ہے۔

مغربی بنگال میں ووٹوں کی گنتی سے پہلے ای وی ایم کے اسٹرونگ روم پر زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ممتا بنرجی نے رات کے اندھیرے میں اسٹرونگ روم کا دورہ کیا اور الزام لگایا کہ ’’ای وی ایم لوٹنے کی کوشش ہو رہی ہے۔‘‘ ٹی ایم سی کے دھرنے اور بی جے پی کے سخت جوابی حملے نے 4 مئی کے نتائج سے پہلے بنگال کی سیاسی گرمی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔

شائننگ انڈیا کے ایگزٹ پول کے مطابق ٹی ایم سی کو 294 میں سے تقریباً 159 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں، جو اسے واضح اکثریت کی جانب لے جاتی ہیں۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 128 سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے، جس سے مقابلہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے، مگر برتری ٹی ایم سی کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ممتا بنرجی آج بھی عوام کی پہلی پسند ہیں۔ ’بھارت ایکسپریس (AI AM Analytics)‘ کے سروے میں 41 فیصد لوگوں نے انہیں وزیر اعلیٰ کے طور پر منتخب کیا۔

ریاست میں ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، لیکن اس سے پہلے آج یعنی 29 اپریل کی شام جاری ہونے والے ایگزٹ پولز سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے والے ہیں۔ جیسے ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگا، پورے ملک کی نظریں ٹیلی ویژن اسکرینوں اور موبائل فونز پر مرکوز ہو جائیں گی۔ ہر کوئی یہ جاننے کے لیے بے تاب ہے کہ کیا ’سونار بنگلا‘ پر ممتا دیدی کا جادو برقرار رہے گا یا بی جے پی اپنی طویل سیاسی جدوجہد کے بعد اقتدار کا خواب پورا کرے گی۔