Bharat Express DD Free Dish

CM Mamata banerjee

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف جماعتوں کی جانب سے ریلیوں اور جلسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں امت شاہ نے کلٹی کے وکٹوریہ ویسٹ اسکول گراؤنڈ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن صرف حکومت بدلنے کا نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ہے۔

مغربی بنگال کے بردھمان ضلع کے کلٹی علاقے میں واقع وکٹوریہ ویسٹ اسکول گراؤنڈ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی انتخابی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے کو ملی۔ ریلی میں شریک افراد نہ صرف امت شاہ کی تقریر سننے پہنچے بلکہ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی سیاسی ترجیحات اور توقعات کا بھی کھل کر اظہار کیا۔

مغربی بنگال کے انتخابی ماحول میں سیاسی بیان بازی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں سڑک کنارے ملنے والی مشہور ڈش ’جھال مڑی‘ بھی سیاست کا موضوع بن گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے جھاڑگرام دورے کے دوران جھال مڑی کھانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ”اسکرپٹڈ ڈرامہ“ قرار دیا ہے۔

انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ جس افسر کی ذمہ داری ان کی سکیورٹی دیکھنا ہے، اسی کے گھر پر مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”آپ کا مقصد کیا ہے؟ کیا آپ مجھے ختم کر کے بنگال جیتنا چاہتے ہیں؟“ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی انہیں نقصان پہنچا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ کامیاب نہیں ہوگا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے عین بیچ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا ہے جب انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) نے اچانک ریاست میں اپنی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ٹی ایم سی کی انتخابی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیاسی ماحول کو بھی خاصا گرم کر دیا ہے۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔

ترنمول کانگریس نے کہا کہ اس کے کم ازکم 20 ممبران پارلیمنٹ ووٹنگ کے دوران موجود ہوں گے۔ ہم اس تعداد کو بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن، سدیپ بندوپادھیائے کی طبیعت ناسازہے، ابھیشیک بنرجی ریاست بھرمیں اسٹارپرچارک ہیں اورکچھ اراکین پارلیمنٹ کی اپنے حلقوں میں موجودگی ضروری ہے۔

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ موجودہ نظام میں کچھ طبقات کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت حاصل ہے، لیکن بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ ان کے مطابق یو سی سی کے نفاذ کے بعد ایک ہی قانون سب شہریوں پر نافذ ہوگا اور کسی بھی طرح کا امتیاز باقی نہیں رہے گا۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اورریاست کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی پولیس اورسی آرپی ایف کے ذریعہ ایس آئی آرکے کام میں حصہ لینے والے مغربی بنگال کے عدالتی افسران کو تحفظ فراہم کرتے رہیں۔ بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیران کی سیکورٹی واپس نہیں لی جائے گی۔